Sunday, May 1, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1113,TotalNo:3649


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی مدینہ میں تشریف آوری کا بیان۔
حدیث نمبر
3649
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ فَجَائُوا مُتَقَلِّدِي سُيُوفِهِمْ قَالَ وَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَکْرٍ رِدْفَهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّی أَلْقَی بِفِنَائِ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَکَانَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَکَتْهُ الصَّلَاةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِبِنَائِ الْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَ إِلَی مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَائُوا فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي حَائِطَکُمْ هَذَا فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَی اللَّهِ قَالَ فَکَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَکُمْ کَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِکِينَ وَکَانَتْ فِيهِ خِرَبٌ وَکَانَ فِيهِ نَخْلٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِکِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ قَالَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ قَالَ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً قَالَ قَالَ جَعَلُوا يَنْقُلُونَ ذَاکَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
مسدد عبدالوارث (دوسری سند) اسحاق بن منصور عبدالصمد ان کے والد ابوالتیاح یزید بن حمید ضبعی حضرت انس بن مالک رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو اعالی مدینہ میں قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں قیام فرمایا آپ وہاں چودہ دن رہے پھر آپ نے بنو النجار کی جماعت کو بلا بھیجا تو وہ ہتھیار سجا کر آئے حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اب بھی میری آنکھوں میں وہ نقشہ پھر رہا ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم آگے آپ کے پیچھے (اپنی سواری پر) حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور نبو نجار کی جماعت آپ کو گھیرے میں لئے ہوئے تھی یہاں تک کہ آپ نے اپنا اسباب ابوایوب کے احاطہ میں اتار دیا حضرت انس کہتے ہیں کہ جہاں نماز کا وقت ہوجاتا آپ وہی نماز پڑھ لیتے اور (بعض اوقات) بکریوں کے باڑہ میں بھی نجاست سے ایک طرف ہوکر پڑھ لیتے پھر آپ نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیا اور بنو نجار کو بلا بھیجا جب وہ آ گئے تو آپ نے فرمایا اے بنو نجار تم اپنے اس باغ کو میرے ہاتھ بیچ ڈالو تو انہوں نے کہا نہیں خدا کی قسم! ہم اس کی قیمت ﷲ کے یہاں ثواب کی شکل میں لیں گے حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اس جگہ یہ چیزیں تھیں جو میں تمہیں بتاتا ہوں یعنی مشرکوں کی قبریں وہاں ویرانہ بھی تھا البتہ کچھ درخت خرما کے بھی تھے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبریں تو حکم دے کر کھدوا ڈالیں اور ویرانہ کو برابر کردیا اور درختوں کو کٹوا ڈالا پھر صحابہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے مسجد کے قبلہ کی جانب ان درختوں کو ایک قطار میں نصب کردیا اور اس کے بیچ میں پتھر رکھ دیئے حضرت انس کہتے ہیں کہ صحابہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ پتھر ڈھو رہے تھے اور جزر پڑھ رہے تھے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ کہہ رہے تھے اے خدا عیش تو آخر ت کا ہے انصار اور مہاجرین کی مدد فرما-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment