کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا بیان
حدیث نمبر
3634
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ أَبِي لِأَبِيکَ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَإِنَّ أَبِي قَالَ لِأَبِيکَ يَا أَبَا مُوسَی هَلْ يَسُرُّکَ إِسْلَامُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِجْرَتُنَا مَعَهُ وَجِهَادُنَا مَعَهُ وَعَمَلُنَا کُلُّهُ مَعَهُ بَرَدَ لَنَا وَأَنَّ کُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ کَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ فَقَالَ أَبِي لَا وَاللَّهِ قَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْنَا وَصُمْنَا وَعَمِلْنَا خَيْرًا کَثِيرًا وَأَسْلَمَ عَلَی أَيْدِينَا بَشَرٌ کَثِيرٌ وَإِنَّا لَنَرْجُو ذَلِکَ فَقَالَ أَبِي لَکِنِّي أَنَا وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِکَ بَرَدَ لَنَا وَأَنَّ کُلَّ شَيْئٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدُ نَجَوْنَا مِنْهُ کَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَاکَ وَاللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَبِي
یحییٰ بن بشر روح عوف معاویہ بن قرہ حضرت ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد نے آپ کے والد سے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا نہیں تو انہوں نے کہا کہ میرے والد نے آپ کے والد سے یہ فرمایا تھا کہ اے ابوموسیٰ کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا اسلام ہماری ہجرت ہمارا جہاد اور ہر وہ کام جو ہم نے آپ کے ساتھ یعنی آپ کے زمانہ میں کیا قائم رہے یعنی اس کا ثواب ہم کو مل جائے اور جتنے ہم نے عمل آپ کے بعد کئے ہیں ان سے برابر چھوٹ جائیں کہ نہ نیکیوں کا ثواب ملے اور نہ گناہوں کا عذاب تو آپ کے والد نے میرے والد سے کہا نہیں بھائی بخدا ہم نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے بعد جہاد کئے نمازیں پڑھیں روزے رکھے بہت سے نیک کام کئے اور بہت سے آدمی ہمارے ہاتھوں پر اسلام لائے اور ہمیں ان کے ثواب کی امید ہے میرے والد نے کہا لیکن میں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضہ میں عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی جان ہے یہ چاہتا ہوں کہ ہمارا وہ عمل تو باقی رہے اور جتنے اعمال ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں ان سے برابر چھوٹ جائیں تو میں نے کہا بخدا! آپ کے والد میرے والد سے افضل ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment