کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ حدیبیہ کا قصہ
حدیث نمبر
3848
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَصَابَنَا مَطَرٌ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّی لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَقَالَ قَالَ اللَّهُ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَکَافِرٌ بِي فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَبِرِزْقِ اللَّهِ وَبِفَضْلِ اللَّهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِي کَافِرٌ بِالْکَوْکَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَجْمِ کَذَا فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِالْکَوْکَبِ کَافِرٌ بِي
خالد بن مخلد، سیلمان بن بلال، صالح بن کیسان، عبیدﷲ بن عبدﷲ، حضرت زید بن خالد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال ہم بھی رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے- ایک رات بارش ہو نے لگی تو حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا کیا تم کو معلوم ہے کہ تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ ہم نے عرض کیا ﷲ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے- آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ﷲ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ بہت لوگ ایسے ہیں کہ جب ان کی صبح ہوتی ہے تو میرے اوپر ایمان رکھتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو منکر ہو جاتے ہیں- یعنی جو یہ کہتا ہے کہ یہ بارش خداکے فضل سے ہم پر ہوئی ہے وہ تو ایمان دارہے اور جو یہ کہتا ہے کہ نہیں یہ کسی ستارے کے اثر سے ہوئی ہے تو وہ ستاروں پرایمان رکھتا ہے خدا تعالی پر نہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment