کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا بیان
حدیث نمبر
3847
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ وَقَالَ حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَی مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ لَکِنَّکَ لَسْتَ کَذَلِکَ قَالَ مَسْرُوقٌ فَقُلْتُ لَهَا لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْکِ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی وَالَّذِي تَوَلَّی کِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ فَقَالَتْ وَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنْ الْعَمَی قَالَتْ لَهُ إِنَّهُ کَانَ يُنَافِحُ أَوْ يُهَاجِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
بشر بن خالد، محمد بن جعفر، شعبہ، سلیمان، ابوالضحی، حضرت مسروق سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت حسان بن ثابت رضی ﷲ تعالیٰ عنہ ان کو اشعار سنا رہے تھے اور کہہ رہے تھے- وہ سنجیدہ اور پاک دامن کبھی اس پر تہمت نہ ہوئی۔ وہ ہر صبح بھوکی نہیں کھاتی نادان بہنوں کا گوشت۔ حضرت عائشہ نے حسان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا یہ تو ٹھیک ہے مگر تم ایسے نہیں ہو- مسروق کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ آپ حسان کو اپنے پاس کیوں آنے دیتی ہیں حالانکہ ﷲ تعالی سورہ نور میں فرماتا ہے (وَالَّذِي تَوَلَّی کِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ) یعنی جس نے اس تہمت کے لگانے میں زیادہ حصہ لیا اس کو برا عذاب ہوگا حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اندھے ہو جانے سے زیادہ کیا عذاب ہوگا آپ نے یہ بھی کہا کہ حسان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ کافروں سے مقابلہ کرتا اور مشرکوں کی ہجو کرتا تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment