کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
غزوہ ذات الرقاع کا بیان
حدیث نمبر
3830
حَدَّثَنی مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي وَکُنَّا نَلُفُّ عَلَی أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا کُنَّا نَعْصِبُ مِنْ الْخِرَقِ عَلَی أَرْجُلِنَا وَحَدَّثَ أَبُو مُوسَی بِهَذَا ثُمَّ کَرِهَ ذَاکَ قَالَ مَا کُنْتُ أَصْنَعُ بِأَنْ أَذْکُرَهُ کَأَنَّهُ کَرِهَ أَنْ يَکُونَ شَيْئٌ مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ
محمد بن علاء، ابواسامہ، یزید بن عبدﷲ، اپنے دادا ابی بردہ سے، وہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم چھ آدمی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک لڑائی کے لئے نکلے ہم سب کے پاس صرف ایک ہی اونٹ تھا باری باری سوار ہوتے چلتے چلتے پاؤں پھٹ گئے اور میرے تو ایک پیر سے خون بھی بہنے لگا آخر کیا کرتے اپنے پاؤں پر پرانے کپڑے (چیتھڑے) لپیٹ لئے اسی وجہ سے اس لڑائی کو ذات الرقاع کہا جاتا ہے یعنی چیتھڑے والی لڑائی کہ پیر پر چیتھڑے باندھے تھے ابوموسیٰ نے یہ حدیث بیان تو کردی مگر ان کو اس کا بیان کرنا اچھا معلوم نہیں ہوا کہنے لگے میں پسند نہیں کرتا کہ اپنے اعمال میں سے کسی کو ظاہر کروں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment