کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
غزوہ ذات الرقاع کا بیان
حدیث نمبر
3831
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَمَّنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَّی صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّی بِالَّتِي مَعَهُ رَکْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَائَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَی فَصَلَّی بِهِمْ الرَّکْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ وَقَالَ مُعَاذٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَخْلٍ فَذَکَرَ صَلَاةَ الْخَوْفِ قَالَ مَالِکٌ وَذَلِکَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ تَابَعَهُ اللَّيْثُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَهُ صَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي أَنْمَارٍ
قتیبہ بن سعید، امام مالک یزید بن رومان، صالح بن خوات سے روایت کرتے ہیں جو کہ ذات الرقاع میں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے کہ نماز خوف کے لئے ایک گروہ نے حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ صف باندھی اور ایک گروہ دشمن کے مقابلہ پر موجود رہا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس گروہ کو ایک رکعت پڑھائی پھر خاموش کھڑے رہے مقتدی اپنی دوسری رکعت پوری کرکے لوٹ گئے اور دشمن کے مقابلہ میں جم گئے پھر دوسرا گروہ آیا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر خاموش بیٹھے رہے مقتدیوں نے ایک رکعت خود پوری کی پھر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا معاذ بن ہشام نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے ابی الزبیر سے، وہ جابر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نخل میں حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے پھر نمازخوف کا ذکر کیا جیسا کہ اوپر گزرا۔ امام مالک نے فرمایا صلوۃ الخوف کی سب سے عمدہ یہی روایت میں نے سنی معاذ بن ہشام کے ساتھ اس حدیث کو لیث بن سعد، انہوں نے زید بن اسلم ، وہ قاسم بن محمد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم نے خوف کی نماز غزوہ بنی انمار میں پڑھی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment