کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
بنی اسرائیل کے واقعات کا بیان
حدیث نمبر
3211
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا أَجَلُکُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلَا مِنْ الْأُمَمِ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَی مَغْرِبِ الشَّمْسِ وَإِنَّمَا مَثَلُکُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَی کَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَی نِصْفِ النَّهَارِ عَلَی قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ فَعَمِلَتْ الْيَهُودُ إِلَی نِصْفِ النَّهَارِ عَلَی قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَی صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَی قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ فَعَمِلَتْ النَّصَارَی مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَی صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَی قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَی مَغْرِبِ الشَّمْسِ عَلَی قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ أَلَا فَأَنْتُمْ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَی مَغْرِبِ الشَّمْسِ عَلَی قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ أَلَا لَکُمْ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ فَغَضِبَتْ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَی فَقَالُوا نَحْنُ أَکْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَائً قَالَ اللَّهُ هَلْ ظَلَمْتُکُمْ مِنْ حَقِّکُمْ شَيْئًا قَالُوا لَا قَالَ فَإِنَّهُ فَضْلِي أُعْطِيهِ مَنْ شِئْتُ
قتیبہ بن سعید لیث نافع ابن عمر رضی ﷲ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا گزشتہ امتوں کے زمانہ کے مقابلہ میں زمانہ ایسا ہے جیسے وہ وقت جو عصر اور مغرب کے درمیان ہے اور تمہاری اور یہود و نصاری کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے چند لوگوں کو کام پر لگایا اور اس نے کہا کون ہے جو ایک قیراط کے بدلہ میں میرا کام دوپہر تک کرے تو یہود نے دوپہر تک ایک قیراط کے عوض میں کام کیا پھر اس نے کہا کون ہے جو میرا کام ایک قیراط کے بدلہ میں دوپہر سے نماز عصر تک کرے تو نصاری نے ایک قیراط کے بدلہ میں دوپہر سے نماز عصر تک کیا پھر اس نے کہا کون ہے جو میرا کام دو قیراط کے معاوضہ میں نماز عصر سے غروب آفتاب تک کر رے دیکھو تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے نماز عصر سے غروب آفتاب تک دو قیراط کے بدلہ میں کام کیا دیکھو تمہیں دگنا اجر ملا تو یہود و نصاری ناراض ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے کام تو زیادہ کیا اور عطیہ کم ملا تو ﷲ تعالیٰ نے فرمایا کیا میں نے تمہیں تمہارے حق سے کچھ کم دیا ہے انہوں نے کہا نہیں تو ﷲ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میرا انعام ہے جسے میں چاہتا ہوں دیتا ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment