Saturday, April 9, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:624, Total Hadith no: 3160


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
طوفان کا بیان۔
حدیث نمبر
3160
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبَکَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَی صَاحِبَ الْخَضِرِ لَيْسَ هُوَ مُوسَی بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنَّمَا هُوَ مُوسَی آخَرُ فَقَالَ کَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مُوسَی قَامَ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ فَقَالَ أَنَا فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ بَلَی لِي عَبْدٌ بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْکَ قَالَ أَيْ رَبِّ وَمَنْ لِي بِهِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ أَيْ رَبِّ وَکَيْفَ لِي بِهِ قَالَ تَأْخُذُ حُوتًا فَتَجْعَلُهُ فِي مِکْتَلٍ حَيْثُمَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَهُوَ ثَمَّ وَرُبَّمَا قَالَ فَهُوَ ثَمَّهْ وَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِکْتَلٍ ثُمَّ انْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ حَتَّی إِذَا أَتَيَا الصَّخْرَةَ وَضَعَا رُئُوسَهُمَا فَرَقَدَ مُوسَی وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فَخَرَجَ فَسَقَطَ فِي الْبَحْرِ فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا فَأَمْسَکَ اللَّهُ عَنْ الْحُوتِ جِرْيَةَ الْمَائِ فَصَارَ مِثْلَ الطَّاقِ فَقَالَ هَکَذَا مِثْلُ الطَّاقِ فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ بَقِيَّةَ لَيْلَتِهِمَا وَيَوْمَهُمَا حَتَّی إِذَا کَانَ مِنْ الْغَدِ قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَائَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا وَلَمْ يَجِدْ مُوسَی النَّصَبَ حَتَّی جَاوَزَ حَيْثُ أَمَرَهُ اللَّهُ قَالَ لَهُ فَتَاهُ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَی الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْکُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا فَکَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَلَهُمَا عَجَبًا قَالَ لَهُ مُوسَی ذَلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِي فَارْتَدَّا عَلَی آثَارِهِمَا قَصَصًا رَجَعَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّی انْتَهَيَا إِلَی الصَّخْرَةِ فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّی بِثَوْبٍ فَسَلَّمَ مُوسَی فَرَدَّ عَلَيْهِ فَقَالَ وَأَنَّی بِأَرْضِکَ السَّلَامُ قَالَ أَنَا مُوسَی قَالَ مُوسَی بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ نَعَمْ أَتَيْتُکَ لِتُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا قَالَ يَا مُوسَی إِنِّي عَلَی عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ اللَّهُ لَا تَعْلَمُهُ وَأَنْتَ عَلَی عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَکَهُ اللَّهُ لَا أَعْلَمُهُ قَالَ هَلْ أَتَّبِعُکَ قَالَ إِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَکَيْفَ تَصْبِرُ عَلَی مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا إِلَی قَوْلِهِ إِمْرًا فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَی سَاحِلِ الْبَحْرِ فَمَرَّتْ بِهِمَا سَفِينَةٌ کَلَّمُوهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمْ فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحَمَلُوهُ بِغَيْرِ نَوْلٍ فَلَمَّا رَکِبَا فِي السَّفِينَةِ جَائَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَی حَرْفِ السَّفِينَةِ فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ قَالَ لَهُ الْخَضِرُ يَا مُوسَی مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمُکَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا مِثْلَ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ بِمِنْقَارِهِ مِنْ الْبَحْرِ إِذْ أَخَذَ الْفَأْسَ فَنَزَعَ لَوْحًا قَالَ فَلَمْ يَفْجَأْ مُوسَی إِلَّا وَقَدْ قَلَعَ لَوْحًا بِالْقَدُّومِ فَقَالَ لَهُ مُوسَی مَا صَنَعْتَ قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَی سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا فَکَانَتْ الْأُولَی مِنْ مُوسَی نِسْيَانًا فَلَمَّا خَرَجَا مِنْ الْبَحْرِ مَرُّوا بِغُلَامٍ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ فَقَلَعَهُ بِيَدِهِ هَکَذَا وَأَوْمَأَ سُفْيَانُ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ کَأَنَّهُ يَقْطِفُ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ مُوسَی أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَکِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُکْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَکَ إِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ إِنْ سَأَلْتُکَ عَنْ شَيْئٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا فَانْطَلَقَا حَتَّی إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ مَائِلًا أَوْمَأَ بِيَدِهِ هَکَذَا وَأَشَارَ سُفْيَانُ کَأَنَّهُ يَمْسَحُ شَيْئًا إِلَی فَوْقُ فَلَمْ أَسْمَعْ سُفْيَانَ يَذْکُرُ مَائِلًا إِلَّا مَرَّةً قَالَ قَوْمٌ أَتَيْنَاهُمْ فَلَمْ يُطْعِمُونَا وَلَمْ يُضَيِّفُونَا عَمَدْتَ إِلَی حَائِطِهِمْ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِکَ سَأُنَبِّئُکَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِدْنَا أَنَّ مُوسَی کَانَ صَبَرَ فَقَصَّ اللَّهُ عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِمَا قَالَ سُفْيَانُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَی لَوْ کَانَ صَبَرَ لَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمَا وَقَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَامَهُمْ مَلِکٌ يَأْخُذُ کُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا وَأَمَّا الْغُلَامُ فَکَانَ کَافِرًا وَکَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ ثُمَّ قَالَ لِي سُفْيَانُ سَمِعْتُهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ قِيلَ لِسُفْيَانَ حَفِظْتَهُ قَبْلَ أَنْ تَسْمَعَهُ مِنْ عَمْرٍو أَوْ تَحَفَّظْتَهُ مِنْ إِنْسَانٍ فَقَالَ مِمَّنْ أَتَحَفَّظُهُ وَرَوَاهُ أَحَدٌ عَنْ عَمْرٍو غَيْرِي سَمِعْتُهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ
علی بن عبد ﷲ سفیان عمر وبن دینار سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ نوف بکالی کہتے ہیں کہ خضر (کی ملاقات) والے موسیٰ وہ نہیں ہیں جو بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے بلکہ وہ دوسرے ہیں- ابن عباس نے کہا وہ دشمن خدا جھوٹ کہتا ہے مجھے ابی بن کعب کے واسطہ سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ ایک دن موسیٰ بنی اسرئیل کے سامنے وعظ کہنے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا سب سے بڑا عالم کون ہے؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں پس ﷲ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی کیونکہ موسیٰ نے اسے خدا کی طرف منسوب نہیں کیا تو ﷲ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ مجمع البحرین میں ہمارا ایک بندہ ہے جو تم سے بڑا عالم ہے موسیٰ نے عرض کیا کہ اے پروردگار! مجھے ان تک کون پہنچائے گا اور کبھی سفیان یہ الفاظ روایت کرتے کہ اے پروردگار میں کس طرح ان تک پہنچوں ﷲ نے فرمایا تم ایک مچھلی لو اور زنبیل میں رکھ لو جہاں وہ مچھلی غائب ہوئے تو میرا بندہ وہیں ہو گا کبھی سفیان ثم کی جگہ(ثمہ) روایت کرتے پھر وہ اور ان کے خادم یوشع بن نون چلے حتیٰ کہ ایک بڑے پتھر کے پاس پہنچے دونوں نے اس پر اپنا سر رکھا تو موسیٰ کو نیند آ گئی مچھلی تڑپ کر نکلی اور دریا میں گر گئی اور اس نے دریا میں اپنا راستہ سرنگ کی طرح بنا لیا یعنی ﷲ نے مچھلی جانے کے راستہ سے پانی کے بہاؤ کو روک لیا پس وہ طاق کی طرح ہو گیا اور آپ نے اشارہ سے بتایا کہ طاق کی طرح ہو گیا پھر دونوں باقی رات اور پورا دن آ گے چلے جب دوسرا دن ہوا تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا ذرا ہمارا کھانا تو لاؤ ہم نے اس سفر میں بڑی تکلیف اٹھائی، اور موسیٰ کو سفر میں کلفت اس وقت تک محسوس نہ ہوئی جب تک وہ ﷲ کے حکم کردہ راستہ سے آگے نہ بڑھ گئے تو ان کے خادم نے کہا آپ کو معلوم ہے کہ جب ہم پتھر کے پاس بیٹھے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا اور مجھے تو صرف شیطان ہی نے اس کی یاد سے غافل کیا ہے اور اس نے دریا میں اپنا عجیب طریقہ سے راستہ بنا لیا سو مچھلی کا وہ سرنگ نما راستہ ان کے لئے تعجب کا باعث تھا موسیٰ نے کہا ہم تو یہی چاہتے تھے پھر وہ دونوں اپنے قدم کے نشان دیکھتے ہوئے پیچھے لوٹے یہاں تک کہ دونوں اسی پتھر کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو دیکھا کہ کپڑا اوڑھے ہوئے لیٹا ہے موسیٰ نے اسے سلام کیا، تو انہوں نے جواب دیا اور کہا اس سر زمین میں تو سلام کا رواج نہیں ہے تو انہوں نے کہا میں موسیٰ ہوں اس شخص نے کہا کیا بنی اسرائیل کے موسی؟ موسیٰ نے کہا ہاں! میں آپ کے پاس وہ ہدایت کی باتیں سیکھنے آیا ہوں جو آپ کو بتائی گئی ہیں- انہوں نے کہا اے موسیٰ مجھے کچھ خداداد علم ہے جو ﷲ نے مجھے عطا کیا ہے تم اسے نہیں جانتے اور تمہیں کچھ خداداد علم ہے جو ﷲ نے تمہیں عطا کیا ہے میں اسے نہیں جانتا موسیٰ نے کہا کیا میں آپ کے پاس رہ سکتا ہوں؟ خضر نے کہا تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکتے اور تم کیونکہ ایسی بات پر صبر کر سکتے ہو جس کی حقیقت کا تمہیں علم نہیں ہے موسیٰ نے کہا ان شاء ﷲ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں آپ کی کسی معاملہ میں نافرمانی نہیں کروں گا، پھر یہ دونوں دریا کے کنارے کنارے چلے ایک کشتی ان کی طرف سے گزری انہوں نے کشتی والوں سے کہا ہمیں بٹھا لو کشتی والوں نے خضر کو پہچان لیا، تو بغیر کسی اجرت کے انہیں بٹھا لیا (اتنے میں) ایک چڑیا آ کر کشتی کے ایک طرف بیٹھ گئی اور اس نے دریا میں ایک یا دو چونچیں ماریں خضر نے کہا اے موسیٰ میرے اور تمہارے علم سے خدا کے علم میں اتنی کمی بھی نہیں ہوئی جتنا اس چڑیا نے اپنی چونچ سے دریا کا پانی کم کیا ہے (پھر) یکا یک خضر نے ایک کلہاڑی اٹھائی اور کشتی کا ایک تختہ نکال ڈالا پس یکا یک موسیٰ نے دیکھا کہ انہوں نے کلہاڑی سے لکڑی کا کشتی کا تختہ نکال ڈالا ہے تو ان سے کہا آپ نے یہ کیا کیا؟ ان لوگوں نے تو بغیر اجرت کے ہمیں کشتی میں بٹھایا اور آپ نے ان کی کشتی کو توڑ ڈالا تا کہ اس کی سواریوں کو غرق کر دیں- بے شک آپ نے یہ برا کام کیا ہے خضر نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں سکتے موسیٰ نے کہا میں بھول گیا تھا اس پر مواخذہ نہ کیجئے اور میرے کام میں مجھ پر تنگی پیدا نہ کیجئے پس پہلی مرتبہ تو موسیٰ سے بھول ہوئی پھر یہ دونوں دریا سے نکلے تو ایک لڑکے کے پاس سے گزرے جو اور لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا خضر نے اس بچہ کا سر پکڑ کر اپنے ہاتھ سے اسے گردن سے جدا کردیا سفیان نے اپنی انگلیوں سے ایسا اشارہ کیا جیسے وہ کوئی چیز توڑتے ہیں موسیٰ نے ان سے کہا آپ نے ایک پاکیزہ اور بے گناہ انسان کو بغیر جرم کے قتل کردیا بیشک آپ نے بہت خراب کام کیا خضر نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے موسیٰ نے کہا کہ اگر اس کے بعد میں آپ سے کچھ پوچھوں تو مجھے جدا کر دیجئے بے شک آپ میری طرف سے معذوری کی حد کو پہنچ گئے پھر وہ دونوں چلے حتیٰ کہ جب وہ ایک گاؤں کے لوگوں کے پاس پہنچا تو انہوں نے ان سے کھانا مانگا انہوں نے کھانا دینے سے انکار کردیا تو انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی اور جھک گئی تھی اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا اور سفیان نے اس طرح اشارہ کیا جیسے وہ کسی چیز پر اوپر کی طرف ہاتھ پھیر رہے ہیں اور میں نے سفیان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ جھک گئی تھی صرف ایک مرتبہ سنا ہے موسیٰ نے کہا یہ لوگ ایسے ہیں کہ ہم ان کے پاس آئے- تو انہوں نے نہ ہمیں کھانا دیا نہ ضیافت کی اور آپ نے ان کی دیوار کو درست کردیا اگر آپ چاہتے تو ان سے اجرت لے لیتے خضر نے کہا یہی ہمارے تمہارے درمیان جدائی ہے میں تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہیں کر سکے تھے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کاش موسیٰ صبر کرتے اور ﷲ ہم سے ان کا (اور زیادہ) قصہ بیان کرتا سفیان کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ﷲ موسیٰ پر رحم کرے اگر وہ صبر کرتے تو ہم سے ان کا اور قصہ بیان کیا جاتا اور ابن عباس (بجائے مَلِکٌ يَأْخُذُ کُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًاكے) كان مَلِکٌ يَأْخُذُ کُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا پڑھا (یعنی انكے آگے ایک بادشاه تھا، جو ہر بے عیب كشتی كو زبردستی چھین لیتا ہے اور ابن عباس نے یه پڑھا) والغلام انعام فكان كافرا كان ابوه مومنین (یعنی وه لڑكا تو كافر تھا اور اس كے والدین مومن تھے) پھر سفیان نے مجھ سے كہا، میں نے یه حدیث عمرو بن دینار سے دو مرتبه سنی، اور انهیں سے یاد كی، سفیان سے پوچھا گیا، كیا آپ نے عمرو سے سننے سے پهلے یه حدیث یاد كر لی تھی، یا آپ كسی اور سے یه حدیث یاد كی؟ سفیان نے كہا میں كس سے یاد كرتا، كیا میرے علاوه یه حدیث عمرو سے كسی اور نے روایت كی ہے میں نے یه حدیث عمرو سے دو یا تین مرتبه سنی اور انهین سے یاد كی .



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment