کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا بیان
حدیث نمبر
3844
حَدَّثَنَا ابوعبدالله محمد بْنُ إِسْمَاعِيلَ بن ابراهيم بن المغيرة الجعفي رحمه الله عليه قال موسي بن اسماعيل قال حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَهِيَ أُمُّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ بَيْنَا أَنَا قَاعِدَةٌ أَنَا وَعَائِشَةُ إِذْ وَلَجَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَتْ فَعَلَ اللَّهُ بِفُلَانٍ وَفَعَلَ فَقَالَتْ أُمُّ رُومَانَ وَمَا ذَاکَ قَالَتْ ابْنِي فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ قَالَتْ وَمَا ذَاکَ قَالَتْ کَذَا وَکَذَا قَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ وَأَبُو بَکْرٍ قَالَتْ نَعَمْ فَخَرَّتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا فَمَا أَفَاقَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا حُمَّی بِنَافِضٍ فَطَرَحْتُ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا فَغَطَّيْتُهَا فَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا شَأْنُ هَذِهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَتْهَا الْحُمَّی بِنَافِضٍ قَالَ فَلَعَلَّ فِي حَدِيثٍ تُحُدِّثَ بِهِ قَالَتْ نَعَمْ فَقَعَدَتْ عَائِشَةُ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لَا تُصَدِّقُونِي وَلَئِنْ قُلْتُ لَا تَعْذِرُونِي مَثَلِي وَمَثَلُکُمْ کَيَعْقُوبَ وَبَنِيهِ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَی مَا تَصِفُونَ قَالَتْ وَانْصَرَفَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَهَا قَالَتْ بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِ أَحَدٍ وَلَا بِحَمْدِکَ
موسیٰ بن اسمعیل، ابوعوانہ، حصین بن عبدالرحمن، ابووائل، مسروق بن اجدع سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی ﷲ تعالیٰ عنہا، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی والدہ نے کہا کہ میں اور عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا دونوں بیٹھی ہوئی تھیں کہ اتنے میں ایک انصار یہ عورت آئی اس کا نام مجھے معلوم نہیں وہ کہنے لگی ﷲ فلاں فلاں فلاں کو تباہ کرے میں نے پوچھا ایسا کیوں کہتی ہو کہنے لگی- میرا بیٹا بھی اس بات میں شریک ہے تہمت لگانے والوں میں ام رومان نے کہا وہ کون سی بات ہے- تو پھر اس نے تہمت کا واقعہ بیان کیا حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کیا حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ہو گئی ہے؟ اس نے کہاہاں! پھر پوچھا اور ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو؟ کہا ہاں بس یہ سنتے ہیں عائشہ بیہوش ہوکر گر پڑیں ہوش آیا تو بخار لرزے کے ساتھ موجود تھا میں نے کپڑے اڑھا دیئے اور جسم کو چھپا دیا اس کے بعد حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ کیا ہوا؟ میں نے جواب میں کہا کہ ان کو لرزے سے بخارا آ گیا ہے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس طوفان یعنی تہمت کی بات کا علم ہوگیا ہے! میں نے عرض کیا جی ہاں پھر عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا اٹھ کر بیٹھیں اور قسم کھا کر کہنے لگیں کہ اگر میں اپنی بے گناہی بیان کروں تو بھی تم کو یقین نہیں آئے گا اب تو میرا اور تمہارا حال ایسا ہے جیسا یعقوب اور ان کے بیٹوں کا تھا یعقوب نے صبر کیا اور کہا ﷲ سے میں تمہاری بنائی ہوئی پر مدد طلب کرتا ہوں آپ صلی ﷲ علیہ وسلم یہ بات سن کر خاموش چلے گئے آخر ﷲ تعالیٰ نے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی پاک دامنی ظاہر فرمائی اور وہ کہنے لگیں میں ﷲ کے سوا کسی کا شکریہ ادا نہیں کرتی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment