کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جنگ خند ق سے واپس آنا
حدیث نمبر
3826
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ح و حَدَّثَنِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ حَتَّی افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ الَّذِي کَانُوا أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ فَجَائَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتْ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي تَقُولُ کَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَا يُعْطِيکَهُمْ وَقَدْ أَعْطَانِيهَا أَوْ کَمَا قَالَتْ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَکِ کَذَا وَتَقُولُ کَلَّا وَاللَّهِ حَتَّی أَعْطَاهَا حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ عَشَرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ کَمَا قَالَ
عبدﷲ بن ابی الاسود، معتمر بن سلیمان (دوسری سند) امام بخاری خلیفہ بن خیاط، معتمر بن سلیمان، وہ اپنے دادا سے، اور وہ حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انصار کھجور کے درخت حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کیا کرتے تھے آخر ﷲ نے بنی قریظہ اور بنی نضیر پر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو فتح عنایت فرمائی حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے مجھ کو حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ میں ان سے وہ درخت واپس مانگوں جو آپ کو بطور ہدیہ دیئے تھے حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے وہ درخت ام ایمن کو دے دیئے تھے اتنے میں وہ آ گئیں اور میری گردن میں کپڑا ڈال کر کہنے لگیں اس خدا کی قسم! جو معبود حقیقی ہے یہ درخت رسول پاک صلی ﷲ علیہ وسلم نے دیئے ہیں اب تم کو واپس نہیں دیں گے یا ایسا ہی کچھ کہا اور آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم فرما رہے تھے ام ایمن تم اتنے درخت ان کے بدلے لے لو مگر وہ یہی کہے جا رہی تھی بخدا میں نہیں دونگی حتیٰ کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا ان سے دس گنا لے لو یا انس نے کچھ ایسی ہی بات کہی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment