کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا بیان
حدیث نمبر
3636
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يُحَدِّثُ قَالَ ابْتَاعَ أَبُو بَکْرٍ مِنْ عَازِبٍ رَحْلًا فَحَمَلْتُهُ مَعَهُ قَالَ فَسَأَلَهُ عَازِبٌ عَنْ مَسِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُخِذَ عَلَيْنَا بِالرَّصَدِ فَخَرَجْنَا لَيْلًا فَأَحْثَثْنَا لَيْلَتَنَا وَيَوْمَنَا حَتَّی قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ ثُمَّ رُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ فَأَتَيْنَاهَا وَلَهَا شَيْئٌ مِنْ ظِلٍّ قَالَ فَفَرَشْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْوَةً مَعِي ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ قَدْ أَقْبَلَ فِي غُنَيْمَةٍ يُرِيدُ مِنْ الصَّخْرَةِ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْنَا فَسَأَلْتُهُ لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ فَقَالَ أَنَا لِفُلَانٍ فَقُلْتُ لَهُ هَلْ فِي غَنَمِکَ مِنْ لَبَنٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ لَهُ هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ قَالَ نَعَمْ فَأَخَذَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ فَقُلْتُ لَهُ انْفُضْ الضَّرْعَ قَالَ فَحَلَبَ کُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ وَمَعِي إِدَاوَةٌ مِنْ مَائٍ عَلَيْهَا خِرْقَةٌ قَدْ رَوَّأْتُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَبَبْتُ عَلَی اللَّبَنِ حَتَّی بَرَدَ أَسْفَلُهُ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی رَضِيتُ ثُمَّ ارْتَحَلْنَا وَالطَّلَبُ فِي إِثْرِنَا قَالَ الْبَرَائُ فَدَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَکْرٍ عَلَی أَهْلِهِ فَإِذَا عَائِشَةُ ابْنَتُهُ مُضْطَجِعَةٌ قَدْ أَصَابَتْهَا حُمَّی فَرَأَيْتُ أَبَاهَا فَقَبَّلَ خَدَّهَا وَقَالَ کَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ
احمد بن عثمان شریح بن مسلمہ ابراہیم بن یوسف ان کے والد ابواسحق حضرت براء (بن عازب) سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے (میرے والد) عازب سے ایک کجاوہ خریدا میں اس کجاوہ کو اٹھا کر ان کے ساتھ لے کر چلا تو عازب نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے سفر (ہجرت) کی کیفیت پوچھی حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا ہم پر گماشتے مقرر تھے پس ہم (غار ثور سے) رات کو نکلے اور ایک شب و روز تیز چلتے رہے یہاں تک کہ دوپہر ہو گئی ہمیں ایک چٹان نظر آئی ہم اس کے پاس آ گئے اور اس چٹان کا تھوڑا سا سایہ تھا میں نے اپنی ایک پوستین جو میرے پاس تھی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے واسطے بچھا دی آپ اس پر لیٹ گئے میں ادھر ادھر دیکھنے کے لئے چلا تو میں نے ایک چرواہے کو دیکھا جو کچھ بکریاں لئے سامنے سے آ رہا تھا اور وہ بھی اس چٹان کے سایہ کی تلاش میں آیا تھا میں نے اس سے پوچھا تو کس کا غلام ہے؟ اس نے کہا فلاں کا میں نے کہا تیری بکریوں میں کچھ دودھ ہے؟ اس نے کہا ہاں! میں نے کہا کیا تو دودھ دے سکتا ہے؟ اس نے کہا ہاں! پھر اس نے ایک بکری پکڑی میں نے اس سے کہا کہ اس کا تھن صاف کر لے پھر اس نے تھوڑا سا دودھ دوہا میرے پاس کپڑے سے ڈھکا ہوا ایک برتن تھا جسے میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے لئے باندھ رکھا تھا میں نے اس دودھ میں پانی ڈالا یہاں تک کہ نیچے تک ٹھنڈا ہوگیا پھر میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یہ پی لیجئے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے پیا- یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا پھر ہم نے (وہاں سے) کوچ کیا اور تلاش کرنے والے پیچھے پیچھے (آ رہے) تھے حضرت براء (رضی ﷲ عنہ) کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں چلا گیا تو ان کی صاحبزادی حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا لیٹی ہوئی تھیں انہیں بخار آ گیا تھا تو میں نے ان کے والد (حضرت ابوبکر) کو دیکھا کہ انہوں نے ان کا رخسار چوما اور پھر پوچھا بیٹی طبیعت کیسی ہے؟
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment