کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا بیان
حدیث نمبر
3638
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ کَلْبٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ بَکْرٍ فَلَمَّا هَاجَرَ أَبُو بَکْرٍ طَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا ابْنُ عَمِّهَا هَذَا الشَّاعِرُ الَّذِي قَالَ هَذِهِ الْقَصِيدَةَ رَثَی کُفَّارَ قُرَيْشٍ وَمَاذَا بِالْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ مِنْ الشِّيزَی تُزَيَّنُ بِالسَّنَامِ وَمَاذَا بِالْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ مِنْ الْقَيْنَاتِ وَالشَّرْبِ الْکِرَامِ تُحَيِّينَا السَّلَامَةَ أُمُّ بَکْرٍ وَهَلْ لِي بَعْدَ قَوْمِي مِنْ سَلَامِ يُحَدِّثُنَا الرَّسُولُ بِأَنْ سَنَحْيَا وَکَيْفَ حَيَاةُ أَصْدَائٍ وَهَامِ
اصبغ ابن وہب یونس ابن شہاب عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے (قبیلہ) کلب کی ایک عورت سے جس کا نام ام بکر تھا نکاح کیا جب حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ہجرت کی تو اسے طلاق دے دی اس کے بعد ام بکر کے چچا زاد بھائی نے اس سے نکاح کرلیا یہ وہی شاعر ہے جس نے یہ قصیدہ بدر میں مقتول کفار قریش کے مرثیہ میں کہا ہے اور قلیب بدر میں (وہ لوگ) نہیں رہے تھے (جو مالک تھے ان پیالوں کے جو) شیریں لکڑی کے ہوں اور اونٹ کے کوہان جو گوشت سے مزین ہوں اور قلیب بدر میں گانے والیاں اور شراب پینے میں شریک لوگ بھی نہیں رہے مجھے ام بکر سلامتی کے لئے دعائیں دیتی ہے حالانکہ میری قوم (کی ہلاکت) کے بعد میری سلامتی کہاں؟ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ہم سے کہتے ہیں کہ ہم دوبارہ زندہ ہوں گے حالانکہ ہڈیاں اور کھوپڑیاں کیسے زندہ ہو سکتی ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment