کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر
3353
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمُ قِسْمًا أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ فَقَالَ وَيْلَکَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ قَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَکُنْ أَعْدِلُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِيهِ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ يُنْظَرُ إِلَی نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْئٌ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَی رِصَافِهِ فَمَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْئٌ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَی نَضِيِّهِ وَهُوَ قِدْحُهُ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْئٌ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَی قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْئٌ قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَی عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ وَيَخْرُجُونَ عَلَی حِينِ فُرْقَةٍ مِنْ النَّاسِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ فَأَمَرَ بِذَلِکَ الرَّجُلِ فَالْتُمِسَ فَأُتِيَ بِهِ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلَی نَعْتِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَهُ
ابوالیمان شعیب زہری ابوسلمہ حضرت ابوسعید خدری رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے- آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کچھ مال تقسیم کر رہے تھے کہ آپ کے پاس ذوالخویصرہ جو قبیلہ بنی تمیم کا ایک شخص تھا حاضر ہوا- اس نے کہا یا رسول ﷲ! انصاف کیجئے! آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیری خرابی ہو اگر میں انصاف نہ کروں گا تو کون ہے جو انصاف کرے گا؟ اگر میں انصاف نہ کروں تو بہت ناکام و نامراد ہوں گا حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! مجھ کو اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑادوں فرمایا اس کو رہنے دو اس کے چند ساتھی ایسے ہیں جن کی نمازوں کو دیکھ کر تم اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے- او ر ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزہ کو کمتر وہ قرآن کی تلاوت کریں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا یہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح کمان سے تیر نکل جاتا ہے اس کے پکڑنے کی جگہ دیکھی جائے تو اس میں کوئی چیز معلوم نہ ہو گی- اس کے پر دیکھے جائیں تو ان میں کوئی چیز معلوم نہ ہو گی- اس کے پر اور پکڑنے کی جگہ کے درمیانی مقام کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی چیز دکھائی نہ دے گی حالانکہ وہ گندگی اور خون سے ہو کر گزرا ہے ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک سیاہ آدمی ہو گا اس کا ایک مونڈھا عورت کے پستان یا پھڑکتے ہوئے گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہو گا جب لوگوں میں اختلا ف پیدا ہو گا تو یہ ظاہر ہوں گے- حضرت ابوسعید رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے سنی ہے اور یہ کہ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب نے ان لوگوں سے جنگ کی ہے- میں ان کے ساتھ تھا انہوں نے حکم دیا وہ شخص تلاش کر کے لایا گیا میں نے اس میں وہی خصوصیات پائیں جن کو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں بیان فرمایا تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment