Saturday, April 16, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:829,Total no:3365


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر
3365
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي کَأَنَّ مِشْيَتَهَا مَشْيُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْحَبًا بِابْنَتِي ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَبَکَتْ فَقُلْتُ لَهَا لِمَ تَبْکِينَ ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَضَحِکَتْ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ کَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ فَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ فَقَالَتْ مَا کُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ أَسَرَّ إِلَيَّ إِنَّ جِبْرِيلَ کَانَ يُعَارِضُنِي الْقُرْآنَ کُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً وَإِنَّهُ عَارَضَنِي الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَلَا أُرَاهُ إِلَّا حَضَرَ أَجَلِي وَإِنَّکِ أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِي لَحَاقًا بِي فَبَکَيْتُ فَقَالَ أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَکُونِي سَيِّدَةَ نِسَائِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَوْ نِسَائِ الْمُؤْمِنِينَ فَضَحِکْتُ لِذَلِکَ
ابونعیم، زکریا، فراس، عامرمسروق حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ (ایک روز) فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا آئیں اور انکی چال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی چال کیطرح تھی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیٹی خوش آمدید اس کے بعد آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے انکو اپنی داہنی طرف یا اپنی بائیں طرف بٹھا لیاپھر آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں میں نے ان سے پوچھا تم روتی کیوں ہو؟ پھر ایک بات ان سے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ سے کہی تو وہ ہنسنے لگیں- میں نے کہا آج کی طرح میں نے خوشی کو رنج سے اس قدر قریب نہیں دیکھا- میں دریافت کیا کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے راز کو افشاء کرنا پسند نہیں کرتی- جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوگئی تو میں نے فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے کہا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی مرتبہ مجھ سے فرمایا تھا کہ جبریل علیہ السلام ہرسال مجھ سے ایک بار قرآ ن کا دور کیا کرتے تھے اس سال انہوں نے مجھ سے دو بار دور کیا ہے، اس سے میراخیال ہیکہ میری موت کا وقت قریب آ گیا اور تم میرے تمام گھر والوں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی تو یہ (سن کر) میں رونے لگی پھر (دوسر ی مرتبہ) فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمام جنتی عورتوں کی یا ساری مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو گی اس وجہ سے مجھے ہنسی آ گئی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment