Saturday, April 16, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:855,Total no:3391


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
مہاجروں کے مناقب اور فضیلتوں کا بیان۔
حدیث نمبر
3391
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ اشْتَرَی أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَازِبٍ رَحْلًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ لِعَازِبٍ مُرْ الْبَرَائَ فَلْيَحْمِلْ إِلَيَّ رَحْلِي فَقَالَ عَازِبٌ لَا حَتَّی تُحَدِّثَنَا کَيْفَ صَنَعْتَ أَنْتَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجْتُمَا مِنْ مَکَّةَ وَالْمُشْرِکُونَ يَطْلُبُونَکُمْ قَالَ ارْتَحَلْنَا مِنْ مَکَّةَ فَأَحْيَيْنَا أَوْ سَرَيْنَا لَيْلَتَنَا وَيَوْمَنَا حَتَّی أَظْهَرْنَا وَقَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ فَرَمَيْتُ بِبَصَرِي هَلْ أَرَی مِنْ ظِلٍّ فَآوِيَ إِلَيْهِ فَإِذَا صَخْرَةٌ أَتَيْتُهَا فَنَظَرْتُ بَقِيَّةَ ظِلٍّ لَهَا فَسَوَّيْتُهُ ثُمَّ فَرَشْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ثُمَّ قُلْتُ لَهُ اضْطَجِعْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَاضْطَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْطَلَقْتُ أَنْظُرُ مَا حَوْلِي هَلْ أَرَی مِنْ الطَّلَبِ أَحَدًا فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ غَنَمَهُ إِلَی الصَّخْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا الَّذِي أَرَدْنَا فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَمَّاهُ فَعَرَفْتُهُ فَقُلْتُ هَلْ فِي غَنَمِکَ مِنْ لَبَنٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَهَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لَنَا قَالَ نَعَمْ فَأَمَرْتُهُ فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ ضَرْعَهَا مِنْ الْغُبَارِ ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ کَفَّيْهِ فَقَالَ هَکَذَا ضَرَبَ إِحْدَی کَفَّيْهِ بِالْأُخْرَی فَحَلَبَ لِي کُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ وَقَدْ جَعَلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِدَاوَةً عَلَی فَمِهَا خِرْقَةٌ فَصَبَبْتُ عَلَی اللَّبَنِ حَتَّی بَرَدَ أَسْفَلُهُ فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقْتُهُ قَدْ اسْتَيْقَظَ فَقُلْتُ اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَشَرِبَ حَتَّی رَضِيتُ ثُمَّ قُلْتُ قَدْ آنَ الرَّحِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَلَی فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ يَطْلُبُونَنَا فَلَمْ يُدْرِکْنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ غَيْرُ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَی فَرَسٍ لَهُ فَقُلْتُ هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا
عبد ﷲ اسرائیل ابواسحق حضرت براء سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے (ان کے والد) عازب سے ایک کجاوہ تیرہ درہم میں خرید کر کہا کہ براء کو حکم دو تو وہ اس کجاوے کو میرے ہاں اٹھا لے چلیں- عازب نے جواب دیا یہ نہیں ہو سکتا- مگر مجھ سے وہ واقعہ بیان کیجئے- تمہارا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا کیا ہوا تھا جب تم دونوں مکہ سے نکلے اور مشرک تمہاری تلاش کر رہے تھے- فرمایا جب ہم نے مکہ سے کوچ کیا تو ایک رات دن سفر کرتے رہے اور جب ٹھیک دوپہر ہو گئی تو میں نے اپنی نظر دوڑائی کہ کہیں سایہ دیکھوں ٹھر جانے کو میں نے ایک پتھر کے پاس پہنچ کر جہاں اس کا کچھ سایہ دیکھا میں نے اس کو صاف و ہموار کردیا اس کے بعد رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے لئے وہیں فرش بچھا کر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے کہا یا رسول ﷲ! آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آرام فرمایئے چناچہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم لیٹ گئے پھر میں ادھر ادھر دیکھتا ہوا چلا کہ کوئی مجھے دکھائی دے اتفا ق سے بکریوں کا ایک چرواہا نظر پڑا جو اپنی بکریوں کو اسی پتھر کے پاس ہانکے جا رہا تھا وہ بھی اس پتھر سے وہی چاہتا تھا- جو ہم نے چاہا تھا میں نے اس سے دریافت کیا تو کس کا غلام ہے؟ اس نے کہا فلاں قریشی کا اس نے اس کا نام بتلایا میں نے اس کو پہچان لیا پھر میں نے اس سے دریافت کیا کیا تیری بکریوں میں کچھ دودھ ہے؟ اس نے کہا ہاں ہے- میں نے کہا کیا تو دودھ دوہے گا؟ اس نے کہا ہاں پھر میں نے اس سے کہا تو اس نے اپنی بکری کے پیر باندھے پھر میں نے اس سے کہا کہ اس کے تھن سے غبار صاف کر اور اپنے ہاتھ صاف کر- براء فرماتے ہیں اس نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا جس طرح گرد صاف کیا کرتے ہیں پھر اس نے میرے لئے ایک برتن میں دودھ دوھ دیا میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے واسطے ایک چمڑے کا برتن اپنے ساتھ رکھ لیا تھا جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا میں نے (اس سے پانی لیکر) دودھ میں ڈالا جس سے وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا- پھراس کو رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لے چلا تو میں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو بیدار پایا میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ یہ دودھ نوش فرمایئے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پی لیا جس سے میں خوش ہو گیا پھر میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! چلنے کا وقت آ گیا ہے فرمایا ہاں پس ہم چل دیئے کفار ہم کو تلاش کر رہے تھے- مگر ان میں سے کسی نے بھی ہم کو نہ پایا سراقہ بن مالک کو گھوڑے پر سوار دیکھا تو میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! تلاش کرنے والوں نے ہم کو پا لیا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا غمگین نہ ہو ﷲ ہمارے ساتھ ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment