کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ابوبکر کے دروازہ کے علاوہ مسجد میں سب کے دروازے بند کردو۔
حدیث نمبر
3393
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ ذَلِکَ الْعَبْدُ مَا عِنْدَ اللَّهِ قَالَ فَبَکَی أَبُو بَکْرٍ فَعَجِبْنَا لِبُکَائِهِ أَنْ يُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خُيِّرَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيَّرَ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ أَعْلَمَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَکْرٍ وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ وَلَکِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَمَوَدَّتُهُ لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ بَابٌ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابَ أَبِي بَکْرٍ
عبد ﷲ ابوعمر فلیج سالم بسر بن سعید حضرت ابوسعید خدری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا اور فرمایا بے شک خدا تعالیٰ نے ایک بندہ کو دنیا اور اس چیز کے درمیان جو خدا کے پاس ہے اختیار دیا ہے تو بندہ نے اس چیز کو پسند کیا جو خدا کے پاس ہے ابوسعید حضرت ابوسعید خدری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں پھر حضرت ابوبکر رونے لگے ہم نے ان کے رونے پر تعجب کر کے کہا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تو ایک بندہ کا حال بیان فرما رہے ہیں- کہ اس کو اختیار دیا گیا اس میں رونے کی کیا بات ہے؟ مگربعد میں معلوم ہوا وہ اختیار دیا ہوا بندہ خود رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ہی تھے- حضرت ابوبکر ہم سب میں زیادہ علم رکھنے والے تھے- پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سب لوگوں سے زیادہ اپنی صحبت اور اپنے مال سے مجھ پر احسان کرنے والے ابوبکر ہیں- اگر میں کسی کو ﷲ تعالیٰ کے سوا خلیل بناتا تو بے شک ابوبکر کو بناتا- لیکن اخوت اسلامی اور مودت (مساوی درجہ کی بر قرار) ہے آئندہ مسجد میں ابوبکر کے دروازہ کے علاوہ کوئی دروازہ ایسا نہ رہے جو بند نہ کیا جائے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment