کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
قرشی عدوی ابوحفص حضرت عمر بن خطاب کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3414
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمَاجِشُونِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُنِي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَائِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ وَسَمِعْتُ خَشَفَةً فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ هَذَا بِلَالٌ وَرَأَيْتُ قَصْرًا بِفِنَائِهِ جَارِيَةٌ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقَالَ لِعُمَرَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ فَذَکَرْتُ غَيْرَتَکَ فَقَالَ عُمَرُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَيْکَ أَغَارُ
حجاج عبدالعزیز محمد بن المنکدر حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے (خواب میں) میں نے اپنے آپ کو جنت میں جاتے ہوئے دیکھا تو اچانک ابوطلحہ کی بیوی رمیصاء کو دیکھا اور میں نے قدموں کی چاپ سنی، میں نے دریافت کیا یہ کون ہے؟ تو اس نے کہا یہ حضرت بلال ہیں وہاں میں نے ایک محل بھی دیکھا جس کے صحن میں ایک نوجوان عورت بیٹھی ہوئی تھی میں نے دریافت کیا یہ کس کا محل ہے؟ ایک شخص نے کہا عمر بن خطاب کا میں نے چاہا اندر جا کر محل دیکھوں لیکن پہر تمہاری غیرت مجھے یاد آ گئی حضرت عمر نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول ﷲ کیا میں آپ کے داخل ہونے پر غیرت کروں گا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment