کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
قرشی عدوی ابوحفص حضرت عمر بن خطاب کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3416
حَدَّثَنِا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو جَعْفَرٍ الْکُوفِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ شَرِبْتُ يَعْنِي اللَّبَنَ حَتَّی أَنْظُرَ إِلَی الرِّيِّ يَجْرِي فِي ظُفُرِي أَوْ فِي أَظْفَارِي ثُمَّ نَاوَلْتُ عُمَرَ فَقَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ قَالَ الْعِلْمَ
محمد ابن المبارک یونس زہری حمزہ سے بیان کرتے ہیں کہ حمزہ اپنے والد حضرت عمر بن خطاب کے ذریعہ رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا میں سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں دودھ پیا پھر میں نے دودھ کی سیرابی کی حالت کو دیکھا کہ اس کا اثر میرے ناخنوں سے ظاہر ہو رہا ہے پھر میں نے (پیالہ کا بچا ہوا دودھ) عمر کو دے دیا لوگوں نے دریافت کیا اس خواب کی تعبیر آپ نے کیا دی فرمایا علم-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment