Sunday, April 17, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:891,Total no:3427


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
قرشی عدوی ابوحفص حضرت عمر بن خطاب کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3427
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ جَعَلَ يَأْلَمُ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَکَأَنَّهُ يُجَزِّعُهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَلَئِنْ کَانَ ذَاکَ لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقْتَهُ وَهُوَ عَنْکَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَکْرٍ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقْتَهُ وَهُوَ عَنْکَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ صَحَبَتَهُمْ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُمْ وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ وَهُمْ عَنْکَ رَاضُونَ قَالَ أَمَّا مَا ذَکَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِضَاهُ فَإِنَّمَا ذَاکَ مَنٌّ مِنْ اللَّهِ تَعَالَی مَنَّ بِهِ عَلَيَّ وَأَمَّا مَا ذَکَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَکْرٍ وَرِضَاهُ فَإِنَّمَا ذَاکَ مَنٌّ مِنْ اللَّهِ جَلَّ ذِکْرُهُ مَنَّ بِهِ عَلَيَّ وَأَمَّا مَا تَرَی مِنْ جَزَعِي فَهُوَ مِنْ أَجْلِکَ وَأَجْلِ أَصْحَابِکَ وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ ذَهَبًا لَافْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَ أَنْ أَرَاهُ قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ دَخَلْتُ عَلَی عُمَرَ بِهَذَا
صلت اسمٰعیل ایوب ابن ابی ملیکہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو زخمی کیا گیا تو انہوں نے تکلیف کا اظہار کیا- حضرت ابن عباس نے ان کو جزع فزع کرنے پر گویا ملامت کرتے ہوئے کہا امیرالمومنین! اگر یہ بات هوئی یعنی اگر آپ صلی الله علیه وسلم كی صحبت میں رهے ہیں، اور آپ كی صحبت بهت اچھی رهی ہے، كه ان كا حق صحبت اچھا ادا كیا، پھر جب رسول خدا صلی الله علیه وسلم دنیا سے رخصت هوئے تو حضور اكرم آپ سے بہت خوش اور راضی تھے، پھر آپ حضرت ابوبكر كی صحبت میں رہے اور انكے ساتھ بھی آپ كی صحبت بہت اچھی رہی كہ انكا حق صحبت بھی بهت اچھا ادا كیا، پھر جب وه آپ سے جدا هوئے تو آپ سے وه بھی خوش اور راضی تھے پھر آپ اپنے ایام خلافت میں مسلمانوں یعنی ان كے صحابه كی صحبت میں رہے اور ان كے ساتھ بھی آپ كی صحبت بهت خوب رهی، اب اگر آپ ان سے جدا هوں گے تو وه آپ سے راضی هوں گے، حضرت عمر نے فرمایا تم نے رسول الله صلی الله علیه وسلم كی صحبت كا جو ذكر كیا اور آپ كے راضی اور خوش هو كر رخصت هونے كا تو یہ محض الله كا احسان ہے جو اس نے مجھ پر كیا ہے، پھر حضرت ابوبكر كی صحبت اور خوشنودی كا تم نے جو ذكر كیا ہے وه بھی محض خدا تعالی كا ایک احسان ہے جو اس نے مجھ پر كیا ہے اور اب جو تم مجھ كو جزع فزع كرتے دیكھ رهے ہو وه تمهارے اور تمهارے دوستوں كے سبب سے ہے (یعنی اس خوف سے كہ میرے بعد كہیں تم فتنه میں مبتلا نہ هوجاؤ) خداكی قسم اگر میرے پاس زمین بھر سونا هوتا تو عذاب الہی كے بدلے میں اسكو قربان كر دیتا اس سے پہلے كہ میں اس كو دیكھوں.



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment