Sunday, April 17, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:926,Total no:3462


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
حضرت اسامہ بن زید کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3462
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ فَقَالُوا مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ ذَهَبْتُ أَسْأَلُ الزُّهْرِيَّ عَنْ حَدِيثِ الْمَخْزُومِيَّةِ فَصَاحَ بِي قُلْتُ لِسُفْيَانَ فَلَمْ تَحْتَمِلْهُ عَنْ أَحَدٍ قَالَ وَجَدْتُهُ فِي کِتَابٍ کَانَ کَتَبَهُ أَيُّوبُ بْنُ مُوسَی عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُکَلِّمُ فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجْتَرِئْ أَحَدٌ أَنْ يُکَلِّمَهُ فَکَلَّمَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ کَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَکُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ قَطَعُوهُ لَوْ کَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا
قتیبہ لیث زہری عروہ حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مخزومی عورت نے قریش کو بہت فکر میں ڈال دیا، انہوں نے کہا کہ بجز اسامہ محبوب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہے جو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے سفارش کی جرات کر سکے علی (بن مدینی) بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے سفیان نے بیان کیا میں حضرت زہری کے پاس مخزومی عورت کا قصہ پوچھنے گیا وہ مجھ سے خفا ہو گئے میں نے سفیان سے دریافت کیا کیا تم نے اس قصہ کو کسی سے سنا ہے؟ انہوں نے انکار کیا اور کہا البتہ میں نے اس واقعہ کو ایک کتاب میں دیکھا ہے جس کو ایوب بن موسیٰ نے زہری کے حوالہ سے درج کیا ہے وہ عروہ کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ بنی مخزوم میں ایک عورت نے چوری کی تو لوگوں نے کہا کوئی ہے جو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات چیت کرے؟ جب کسی کو اس کی جرات نہ ہوئی کہ آپ سے گفتگو کر سکے تو حضرت اسامہ بن زید نے آپ سے بات چیت کی اس پر آپ نے فرمایا بنی اسرائیل کا دستور تھا کہ جب کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اس کو معاف کر دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹتے اگر فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے بھی یہ فعل سر زد ہوتا تو یقینا میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالتا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment