کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
حضرت عبداللہ بن عمر بن۔ طاب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3465
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَی رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَی رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکُنْتُ غُلَامًا شَابًّا أَعْزَبَ وَکُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ کَأَنَّ مَلَکَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَی النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ کَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ کَقَرْنَيْ الْبِئْرِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ فَلَقِيَهُمَا مَلَکٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَنْ تُرَاعَ فَقَصَصْتُهَا عَلَی حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ کَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ قَالَ سَالِمٌ فَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَنَامُ مِنْ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا
اسحق عبدالرزاق معمر زہری سالم حضرت ابن عمر رضی ﷲ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں جب کوئی شخص خواب دیکھتا تو اس کو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم سے بیان کرتا میں ایک مجرد جوان تھا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسجد کے اندر سویا کرتا میں نے خوا ب میں دیکھا دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور دوزخ کی طرف لے گئے جو بل والے خانہ دار کنویں کی طرح پیچ در پیچ تھی اور کنویں کی طرح دو کنارے تھے جس میں کچھ لوگ موجود تھے جن کو پہچان کر میں کہنے لگا (اعوذ باﷲ من النار اعوذ باﷲ من النار) میں دوزخ سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں پھر ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ نے مجھ سے کہا تم مت ڈرو پھر میں نے یہ خواب حضرت حفصہ رضی ﷲ عنہا سے بیان کیا حضرت حفصہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبد ﷲ اچھے آدمی ہیں کاش وہ رات کی نماز پڑھا کرتے سالم بیان کرتے ہیں پھر عبد ﷲ رات کو بہت کم سونے لگے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment