کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
حدیث نمبر
3231
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ قَالَ عُقْبَةُ لِحُذَيْفَةَ أَلَا تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا حَضَرَهُ الْمَوْتُ لَمَّا أَيِسَ مِنْ الْحَيَاةِ أَوْصَی أَهْلَهُ إِذَا مُتُّ فَاجْمَعُوا لِي حَطَبًا کَثِيرًا ثُمَّ أَوْرُوا نَارًا حَتَّی إِذَا أَکَلَتْ لَحْمِي وَخَلَصَتْ إِلَی عَظْمِي فَخُذُوهَا فَاطْحَنُوهَا فَذَرُّونِي فِي الْيَمِّ فِي يَوْمٍ حَارٍّ أَوْ رَاحٍ فَجَمَعَهُ اللَّهُ فَقَالَ لِمَ فَعَلْتَ قَالَ خَشْيَتَکَ فَغَفَرَ لَهُ قَالَ عُقْبَةُ وَأَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ
مسدد ابوعوانہ عبدالملک ربعی بن حراش سے بیان کرتے ہیں کہ عقبہ نے حضرت حذیفہ سے کہا آپ ہم سے وہ باتیں کیوں نہیں کرتے جو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے سنی ہیں- انہوں نے کہا میں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک شخص کو موت آئی جب اس کی زندگی کی کچھ امید نہ رہی تو اس نے اپنے گھر والوں سے وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو میرے واسطے بہت سی لکڑیاں جمع کر کے آگ روشن کرنا اور اس کے اندر مجھے ڈال دینا یہاں تک کہ جب آگ میرے گوشت کو کھا لے اور میری ہڈیوں تک پہنچ جائے تو تم ان ہڈیوں کو لے کر پیس ڈالنا پھر مجھے (یعنی میری پسی ہوئی ہڈیوں کو) کسی گرم یا (یہ کہا) کسی تیز ہوا چلنے والے دن دریا میں ڈال دینا (چناچہ ایسا ہی کیا گیا) پھر ﷲ تعالیٰ نے اس کو جمع کر کے فرمایا کہ تو نے (ایسا) کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا تیرے خوف سے پس خدا تعالیٰ نے اس کو بخش دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment