کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
فرمان خداوندی کا بیان کہ اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم کن فیکون تک۔
حدیث نمبر
3190
حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَی سَائِرِ الطَّعَامِ کَمَلَ مِنْ الرِّجَالِ کَثِيرٌ وَلَمْ يَکْمُلْ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِسَائُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ الْإِبِلَ أَحْنَاهُ عَلَی طِفْلٍ وَأَرْعَاهُ عَلَی زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَی إِثْرِ ذَلِکَ وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ تَابَعَهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ وَإِسْحَاقُ الْکَلْبِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ
آدم شعبہ عمرو بن مرہ مرہ ابوموسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر مردوں میں تو بہت کامل ہوئے مگر عورتوں میں سوائے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کے کوئی کامل نہیں ہوئی ابن وہب یونس ابن شہاب سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا قریش کی عورتیں اونٹ پر سوار ہونے والی تمام عورتوں (یعنی عرب عورتوں) سے بہتر ہیں سب سے زیادہ بچہ سے محبت رکھنے والی اور شوہر کے مال کی حفاظت کرنے والی ہیں اس کے بعد ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ مریم بنت عمران کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئیں- اس کے متابع حدیث زہری کے بھتیجے اور اسحق کلبی نے زہری سے روایت کی ہے اور قول خداوندی اے اہل کتاب اپنے دین میں زیادتی نہ کرو اور خدا کی شان میں غلط بات نہ کہو مسیح عیسیٰ بن مریم تو کچھ بھی نہیں البتہ ﷲ کے رسول اور اس کے ایک کلمہ ہیں جسے ﷲ نے مریم تک پہنچایا تھا اور اس کی طرف سے ایک جان ہیں سو تم ﷲ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور یوں مت کہو کہ تین خدا ہیں باز آ جاؤ تمہارے لئے بہتر ہو گا معبود حقیقی تو ایک ہی معبود ہے وہ صاحب اولاد ہونے سے منزہ ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اس کی ملک ہے اور ﷲ تعالیٰ کار ساز ہونے میں کافی ہے ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ کلمتہ سے مراد (ﷲ کا یہ فرمانا ہے کہ) کن بس وہ کام ہوجاتا ہے دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ روح منہ کے یہ معنی ہیں کہ ﷲ نے انہیں زندہ کیا اور روح دی اور یہ نہ کہو کہ (خدا) تین ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment