Sunday, April 10, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:637, Total Hadith no: 3173


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
فرمان خداوندی اور بیشک یونس پیغمبروں میں سے ہیں۔
حدیث نمبر
3173
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ عَنْ اللَّيْثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا يَهُودِيٌّ يَعْرِضُ سِلْعَتَهُ أُعْطِيَ بِهَا شَيْئًا کَرِهَهُ فَقَالَ لَا وَالَّذِي اصْطَفَی مُوسَی عَلَی الْبَشَرِ فَسَمِعَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَامَ فَلَطَمَ وَجْهَهُ وَقَالَ تَقُولُ وَالَّذِي اصْطَفَی مُوسَی عَلَی الْبَشَرِ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَذَهَبَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ لِي ذِمَّةً وَعَهْدًا فَمَا بَالُ فُلَانٍ لَطَمَ وَجْهِي فَقَالَ لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ فَذَکَرَهُ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی رُئِيَ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَائِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَائَ اللَّهُ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَی فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ فَإِذَا مُوسَی آخِذٌ بِالْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَحُوسِبَ بِصَعْقَتِهِ يَوْمَ الطُّورِ أَمْ بُعِثَ قَبْلِي وَلَا أَقُولُ إِنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی
یحییٰ بن بکیر لیث عبدالعزیز بن ابوسلمہ عبد ﷲ بن الفضل اعرج حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہں کہ ایک یہودی اپنا کچھ سامان فروخت کر رہا تھا اسے اس کے عوض اتنی قیمت دی جا رہی تھی جس پر وہ راضی نہیں تھا، تو اس نے کہا نہیں اس ذات کی قسم ہے جس نے موسیٰ کو نوع بشر پر برگزیدہ کیا یہ بات ایک انصاری نے سن لی اس نے کھڑے ہو کر یہودی کے منہ پر طمانچہ دے مارا اور اس سے کہا، تو کہتا ہے کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ کو نوع بشر پر برگزیدہ کیا حالانکہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم ہم میں موجود ہیں وہ یہودی آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اے ابوالقاسم! مجھے امان اور عہد مل چکا ہے (یعنی میں ذمی ہوں) پھر کیا وجہ ہے کہ فلاں شخص نے میرے منہ پر طمانچہ مارا پھر پورا واقعہ اس نے بتایا پس رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اتنا غصہ آیا کہ چہرہ مبارک سے ظاہر ہو رہا تھا پھر آپ نے فرمایا کہ خدا کے پیغمبروں میں سے کسی کو کسی پر فضیلت نہ دو کیونکہ جس وقت صور پھونکا جائے گا تو آسمان اور زمین کے رہنے والے سب بیہو ش ہو جائیں گے سوائے اس کے جسے ﷲ چاہے پس میں سب سے پہلے اٹھایا جاؤں گا تو میں موسیٰ کو عرش پکڑے ہوئے دیکھوں گا پس میں نہیں کہہ سکتا کہ آیا انہیں طور کے دن کی بیہوشی کا یہ معاوضہ ملا ہے (کہ وہ آج بیہوش نہ ہوئے) یا انہیں مجھ سے پہلے اٹھا دیا گیا اور میں یہ بھی نہیں کہتا کہ کوئی شخص یونس بن متی سے افضل ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment