Saturday, April 16, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:718, Total Hadith no: 3254


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
قریش کی خوبیوں کا بیان
حدیث نمبر
3254
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ کَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَحَبَّ الْبَشَرِ إِلَی عَائِشَةَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَکَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِهَا وَکَانَتْ لَا تُمْسِکُ شَيْئًا مِمَّا جَائَهَا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ إِلَّا تَصَدَّقَتْ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْبَغِي أَنْ يُؤْخَذَ عَلَی يَدَيْهَا فَقَالَتْ أَيُؤْخَذُ عَلَی يَدَيَّ عَلَيَّ نَذْرٌ إِنْ کَلَّمْتُهُ فَاسْتَشْفَعَ إِلَيْهَا بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَبِأَخْوَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً فَامْتَنَعَتْ فَقَالَ لَهُ الزُّهْرِيُّونَ أَخْوَالُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ إِذَا اسْتَأْذَنَّا فَاقْتَحِمْ الْحِجَابَ فَفَعَلَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِعَشْرِ رِقَابٍ فَأَعْتَقَتْهُمْ ثُمَّ لَمْ تَزَلْ تُعْتِقُهُمْ حَتَّی بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ فَقَالَتْ وَدِدْتُ أَنِّي جَعَلْتُ حِينَ حَلَفْتُ عَمَلًا أَعْمَلُهُ فَأَفْرُغُ مِنْهُ
عبد ﷲ لیث ابوالاسود عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ عبد ﷲ بن زبیر حضرت عائشہ کے نزدیک رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے بعد تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھے اور وہ حضرت عائشہ کی بہت خدمت کیا کرتے تھے اور حضرت عائشہ کی عادت تھی ﷲ تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے جس قدر ان کے پاس آتا تھا وہ اس کو اندوختہ نہ کرتی تھیں عبد ﷲ بن زبیر نے کہا ان کے ہاتھوں کو روک دینا چاہئے حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میرے ہاتھوں کو روکتا ہے اور نذر مان لی کہ میں اس سے کبھی کلام نہ کروں گی تو انہوں نے قریش کے چند لوگوں سے خاص کر آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے ننہالیوں سے سفارش کرائی لیکن انہوں نے نہیں مانا تو ابن زبیر سے زہریوں نے جو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ننہالی قرابت دار تھے ان ہی میں عبدالرحمن بن الاسود بن عبد یعوث اور مسعود بن مخرمہ بھی تھے کہا کہ جب ہم عائشہ کے یہاں جانے کی اجازت طلب کریں تو تم پردہ کے اندر چلے جانا پھر ہم ان سے تمہاری صفائی کرا دیں گے چناچہ ابن زبیر نے ایسا ہی کیا اور حضرت عائشہ کے پاس دس غلام بھیجے تو عائشہ نے ان کو آزاد کر دیا اور مسلسل غلام آزاد کرتی رہیں حتیٰ کہ چالیس تک ان کی تعداد پہنچ گئی اور فرمایا کہ میں چاہتی تھی کہ اپنی قسم کے بعد کوئی ایسی بات کروں کہ اس قسم سے باہر ہو جاؤں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment