کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
حدیث نمبر
3239
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ کُلِّ أُمَّةٍ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَا مِنْ بَعْدِهِمْ فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ فَغَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَی عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ فِي کُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمٌ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ
موسی وہیب ابن طاؤس طاؤس حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہم (ظہور کے اعتبار سے سب سے) پچھلے ہیں لیکن قیامت کے روز (مرتبہ میں) سب سے سبقت لے جانے والے ہیں بجز اس کے کوئی بات نہیں کہ اور امتوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ہمیں اس کے بعد دی گئی پھر یہ دن جمعہ کا) وہ دن ہے جس میں لوگوں نے اختلاف کیا اس سے کل والا دن (یعنی سینچر) یہود کے لئے مقرر ہوا اور پرسوں والا دن (یعنی اتوار) نصاریٰ! کے لئے ہر مسلمان پر سات دنوں میں ایک دن مقرر کیا گیا ہے جس میں وہ اپنا سر اور بدن دھو لیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment