کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اپنے نسب کو سب و شتم سے بچانے کو پسند کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
3279
حَدَّثَنِا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَائِ الْمُشْرِکِينَ قَالَ کَيْفَ بِنَسَبِي فَقَالَ حَسَّانُ لَأَسُلَّنَّکَ مِنْهُمْ کَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنْ الْعَجِينِ وَعَنْ أَبِيهِ قَالَ ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ لَا تَسُبَّهُ فَإِنَّهُ کَانَ يُنَافِحُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال ابوالهيثم نفحة الدابة اذارمت بحوافرهاونفحه بالسيف اذاتناوله من بعيد
عثمان عبدہ ہشام عروہ حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حسان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے مشرکوں کی ہجو کرنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! میرے نسب کو کیا کرو گے (میں بھی تو ان کے نسب میں شریک ہوں) حضرت حسان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا میں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو ان میں سے اس طرح نکال لوں گا جس طرح خمیر سے بال نکالا جاتا ہے- اور عروہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے بیان کرے ہیں کہ میں حسان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو حضرت عائشہ کے سامنے برا بھلا کہنے لگا انہوں نے فرمایا حسان کو برا مت کہو اس لئے کہ وہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دشمنوں کا دفاع کیا کرتے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment