کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں
حدیث نمبر
3259
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا مِنْ هَذَا الْحَيِّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَکَ کُفَّارُ مُضَرَ فَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْکَ إِلَّا فِي کُلِّ شَهْرٍ حَرَامٍ فَلَوْ أَمَرْتَنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُهُ عَنْکَ وَنُبَلِّغُهُ مَنْ وَرَائَنَا قَالَ آمُرُکُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا إِلَی اللَّهِ خُمْسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ
مسدد حماد ابوحمزہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ قبیلہ عبدالقیس کے کچھ لوگوں نے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول ﷲ ہم ربیعہ کے قبیلہ میں سے ہیں چونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے کفار حائل ہیں اس لئے ہم اشہر حرم کے علاوہ کسی دوسرے زمانہ میں آپ میں خدمت میں نہیں آ سکتے لہذا آپ ہمیں ایسی بات کا حکم دیں جس کو ہم لوگ یاد کر کے پیچھے والوں کو آگاہ کر دیں آپ نے فرمایا میں تمہیں چار باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں خدا پر ایمان لانے اور اس امر کی شہادت دینے کا کہ ﷲ کے سوائی کوئی معبود نہیں اور نماز ادا کرنے کا اور زکوۃ دینے اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ دینے کا حکم دیتا ہوں- اور تم کو چار چیزوں سے باز رہنے کو کہتا ہوں- دباء (کدو کے تو نبوں) اور حنتم (لاکھ کئے ہوئے مرتبان یا ٹھلیوں) نقیر (درختوں کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے بنائے ہوئے برتوں) اور مزفت (رال کئے ہوئے برتنوں) کے استعمال سے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment