کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر
3319
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ سَمِعْتُ أَبَا رَجَائٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ أَنَّهُمْ کَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَأَدْلَجُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّی إِذَا کَانَ وَجْهُ الصُّبْحِ عَرَّسُوا فَغَلَبَتْهُمْ أَعْيُنُهُمْ حَتَّی ارْتَفَعَتْ الشَّمْسُ فَکَانَ أَوَّلَ مَنْ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ أَبُو بَکْرٍ وَکَانَ لَا يُوقَظُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ حَتَّی يَسْتَيْقِظَ فَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ فَقَعَدَ أَبُو بَکْرٍ عِنْدَ رَأْسِهِ فَجَعَلَ يُکَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّی اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ وَصَلَّی بِنَا الْغَدَاةَ فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا فُلَانُ مَا يَمْنَعُکَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا قَالَ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ ثُمَّ صَلَّی وَجَعَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَکُوبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ فَقُلْنَا لَهَا أَيْنَ الْمَائُ فَقَالَتْ إِنَّهُ لَا مَائَ فَقُلْنَا کَمْ بَيْنَ أَهْلِکِ وَبَيْنَ الْمَائِ قَالَتْ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ فَقُلْنَا انْطَلِقِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَمَا رَسُولُ اللَّهِ فَلَمْ نُمَلِّکْهَا مِنْ أَمْرِهَا حَتَّی اسْتَقْبَلْنَا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَتْهُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَتْنَا غَيْرَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا مُؤْتِمَةٌ فَأَمَرَ بِمَزَادَتَيْهَا فَمَسَحَ فِي الْعَزْلَاوَيْنِ فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِينَ رَجُلًا حَتَّی رَوِينَا فَمَلَأْنَا کُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا وَهِيَ تَکَادُ تَنِضُّ مِنْ الْمِلْئِ ثُمَّ قَالَ هَاتُوا مَا عِنْدَکُمْ فَجُمِعَ لَهَا مِنْ الْکِسَرِ وَالتَّمْرِ حَتَّی أَتَتْ أَهْلَهَا قَالَتْ لَقِيتُ أَسْحَرَ النَّاسِ أَوْ هُوَ نَبِيٌّ کَمَا زَعَمُوا فَهَدَی اللَّهُ ذَاکَ الصِّرْمَ بِتِلْکَ الْمَرْأَةِ فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا
ابو الولید سلم ابورجاء حضرت عمران بن حصین رضی ﷲ عنہ سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ کسی سفر میں ہم (صحابہ) رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رات بھر چلتے رہے جب صبح نزدیک ہوئی، تو سب سے پہلے جو شخص بیدار ہوا وہ ابوبکر تھے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو نیند سے بیدار نہ کیا جاتا تھا یہاں تک کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم خود بیدار ہوں پھر عمر بیدار ہوئے اس کے بعد ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے سر مبارک کے پاس بیٹھ گئے اور بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے یہاں تک کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم بیدار ہوئے پھر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ہم لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی- قوم میں سے ایک آدمی علیحدہ رہا اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی جب آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے فلاں! تجھ کو ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے باز رکھا؟ اس نے عرض کیا مجھے جنابت پیش آ گئی- آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مٹی سے تیمم کر لو! اس کے بعد اس نے نماز ادا کی اور مجھ کو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے چند سواروں کے ہمراہ آگے بھیج دیا ہم لوگ سخت پیاسے تھے لیکن چلے جا رہے تھے- اچانک ہم کو ایک عورت ملی جو اپنے دو پیر بڑی مشکوں کے درمیان لٹکائے ہوئے تھی- ہم نے اس عورت سے پوچھا پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا پانی نہیں ہے- ہم نے دریافت کیا تیرے گھر اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ اس نے کہا ایک دن رات کا! پھر ہم نے کہا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس چل- اس نے کہا کون رسول ﷲ ؟ ہم اس کو مجبور کر کے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئے- آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے بھی اس نے ویسا کہا جیسا ہم سے کہا تھا اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے اس نے یہ بھی بیان کیا کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دونوں مشکوں کے کھولنے کا حکم دیا- اور ان کے دہانہ پر ہاتھ پھیرا چناچہ ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے خوب پانی پیا اور ہم سب سیراب ہو گئے اور ہم نے جس قدر مشکیں اور برتن ہمارے پاس تھے سب بھر لئے صرف ہم نے اونٹوں کو پانی نہ پلایا پھر بھی اس کی مشک زیادہ بھری ہونے کی وجہ سے پھٹنے والی تھی، اس کے بعد آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو کچھ پاس ہے- لے آؤ چناچہ اس کے لئے روٹی کے ٹکڑے اور چھوہارے جمع کردیئے گئے- حتیٰ کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس گئی اور اس نے کہا! میں نے ایک بڑے جادو گر کو دیکھا، لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ نبی ہے- ﷲ نے اس کے ذریعے اس گاؤں کے لوگوں کو ہدایت کی وہ بھی مسلمان ہو گئی اور وہ سب بھی مسلمان ہو گئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
Saturday, April 16, 2011
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment