Saturday, April 9, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:589, Total Hadith no: 3125


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
یزفون یعنی تیز چلنے کا بیان
حدیث نمبر
3125
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ کَثِيرِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا کَانَ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَبَيْنَ أَهْلِهِ مَا کَانَ خَرَجَ بِإِسْمَاعِيلَ وَأُمِّ إِسْمَاعِيلَ وَمَعَهُمْ شَنَّةٌ فِيهَا مَائٌ فَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تَشْرَبُ مِنْ الشَّنَّةِ فَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَی صَبِيِّهَا حَتَّی قَدِمَ مَکَّةَ فَوَضَعَهَا تَحْتَ دَوْحَةٍ ثُمَّ رَجَعَ إِبْرَاهِيمُ إِلَی أَهْلِهِ فَاتَّبَعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ حَتَّی لَمَّا بَلَغُوا کَدَائً نَادَتْهُ مِنْ وَرَائِهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِلَی مَنْ تَتْرُکُنَا قَالَ إِلَی اللَّهِ قَالَتْ رَضِيتُ بِاللَّهِ قَالَ فَرَجَعَتْ فَجَعَلَتْ تَشْرَبُ مِنْ الشَّنَّةِ وَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَی صَبِيِّهَا حَتَّی لَمَّا فَنِيَ الْمَائُ قَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ لَعَلِّي أُحِسُّ أَحَدًا قَالَ فَذَهَبَتْ فَصَعِدَتْ الصَّفَا فَنَظَرَتْ وَنَظَرَتْ هَلْ تُحِسُّ أَحَدًا فَلَمْ تُحِسَّ أَحَدًا فَلَمَّا بَلَغَتْ الْوَادِيَ سَعَتْ وَأَتَتْ الْمَرْوَةَ فَفَعَلَتْ ذَلِکَ أَشْوَاطًا ثُمَّ قَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ تَعْنِي الصَّبِيَّ فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هُوَ عَلَی حَالِهِ کَأَنَّهُ يَنْشَغُ لِلْمَوْتِ فَلَمْ تُقِرَّهَا نَفْسُهَا فَقَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ لَعَلِّي أُحِسُّ أَحَدًا فَذَهَبَتْ فَصَعِدَتْ الصَّفَا فَنَظَرَتْ وَنَظَرَتْ فَلَمْ تُحِسَّ أَحَدًا حَتَّی أَتَمَّتْ سَبْعًا ثُمَّ قَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ فَإِذَا هِيَ بِصَوْتٍ فَقَالَتْ أَغِثْ إِنْ کَانَ عِنْدَکَ خَيْرٌ فَإِذَا جِبْرِيلُ قَالَ فَقَالَ بِعَقِبِهِ هَکَذَا وَغَمَزَ عَقِبَهُ عَلَی الْأَرْضِ قَالَ فَانْبَثَقَ الْمَائُ فَدَهَشَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ فَجَعَلَتْ تَحْفِزُ قَالَ فَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَکَتْهُ کَانَ الْمَائُ ظَاهِرًا قَالَ فَجَعَلَتْ تَشْرَبُ مِنْ الْمَائِ وَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَی صَبِيِّهَا قَالَ فَمَرَّ نَاسٌ مِنْ جُرْهُمَ بِبَطْنِ الْوَادِي فَإِذَا هُمْ بِطَيْرٍ کَأَنَّهُمْ أَنْکَرُوا ذَاکَ وَقَالُوا مَا يَکُونُ الطَّيْرُ إِلَّا عَلَی مَائٍ فَبَعَثُوا رَسُولَهُمْ فَنَظَرَ فَإِذَا هُمْ بِالْمَائِ فَأَتَاهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ فَأَتَوْا إِلَيْهَا فَقَالُوا يَا أُمَّ إِسْمَاعِيلَ أَتَأْذَنِينَ لَنَا أَنْ نَکُونَ مَعَکِ أَوْ نَسْکُنَ مَعَکِ فَبَلَغَ ابْنُهَا فَنَکَحَ فِيهِمْ امْرَأَةً قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ لِأَهْلِهِ إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِکَتِي قَالَ فَجَائَ فَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ إِسْمَاعِيلُ فَقَالَتْ امْرَأَتُهُ ذَهَبَ يَصِيدُ قَالَ قُولِي لَهُ إِذَا جَائَ غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِکَ فَلَمَّا جَائَ أَخْبَرَتْهُ قَالَ أَنْتِ ذَاکِ فَاذْهَبِي إِلَی أَهْلِکِ قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ لِأَهْلِهِ إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِکَتِي قَالَ فَجَائَ فَقَالَ أَيْنَ إِسْمَاعِيلُ فَقَالَتْ امْرَأَتُهُ ذَهَبَ يَصِيدُ فَقَالَتْ أَلَا تَنْزِلُ فَتَطْعَمَ وَتَشْرَبَ فَقَالَ وَمَا طَعَامُکُمْ وَمَا شَرَابُکُمْ قَالَتْ طَعَامُنَا اللَّحْمُ وَشَرَابُنَا الْمَائُ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَهُمْ فِي طَعَامِهِمْ وَشَرَابِهِمْ قَالَ فَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَکَةٌ بِدَعْوَةِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ لِأَهْلِهِ إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِکَتِي فَجَائَ فَوَافَقَ إِسْمَاعِيلَ مِنْ وَرَائِ زَمْزَمَ يُصْلِحُ نَبْلًا لَهُ فَقَالَ يَا إِسْمَاعِيلُ إِنَّ رَبَّکَ أَمَرَنِي أَنْ أَبْنِيَ لَهُ بَيْتًا قَالَ أَطِعْ رَبَّکَ قَالَ إِنَّهُ قَدْ أَمَرَنِي أَنْ تُعِينَنِي عَلَيْهِ قَالَ إِذَنْ أَفْعَلَ أَوْ کَمَا قَالَ قَالَ فَقَامَا فَجَعَلَ إِبْرَاهِيمُ يَبْنِي وَإِسْمَاعِيلُ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ وَيَقُولَانِ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ قَالَ حَتَّی ارْتَفَعَ الْبِنَائُ وَضَعُفَ الشَّيْخُ عَنْ نَقْلِ الْحِجَارَةِ فَقَامَ عَلَی حَجَرِ الْمَقَامِ فَجَعَلَ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ وَيَقُولَانِ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
عبد ﷲ بن محمد ابوعامر عبدالملک بن عمرو ابراہیم نافع کثیر بن کثیر سعید بن جبیر ابن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابراہیم اور ان کی بیوی کے درمیان شکر رنجی ہو گئی تو اسمعیل اور ان کی والدہ کو لے کر نکلے اور ان کے پاس ایک مشکیزہ میں پانی تھا پس اسمعیل کی والدہ اس کا پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ اپنے بچہ کے لئے جوش مار رہا تھا حتیٰ کہ وہ مکہ پہنچ گئیں ابراہیم نے انہیں ایک درخت کے نیچے بٹھا دیا پھر ابراہیم اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ چلے تو اسمعیل کی والدہ انکے پیچھے دوڑیں حتی کہ جب وہ مقام کدا میں پہنچے تو اسماعیل کی والدہ انہیں پیچھے سے آواز دی کہ اے ابراہیم! ہمیں کس کے سہارے چھوڑا ہے؟ ابراہیم نے کہا کہ ﷲ تعالیٰ کے اسمعیل کی والدہ نے کہا میں ﷲ (کی نگرانی) پر رضا مند ہوں ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے کہا پھر وہ واپس چلی گئیں اور اپنے مشکیزہ کا پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ اپنے بچہ کے لئے ٹپک رہا تھا حتیٰ کہ پانی ختم ہو گیا تو اسمعیل علیہ السلام کی والدہ نے کہا کہ کاش میں جا کر (ادھر ادھر) دیکھتی شاید مجھے کوئی دکھائی دے جاتا ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ وہ گئیں اور کوہ صفا پر چڑھ گئیں اور انہوں نے ادھر ادھر دیکھا خوب دیکھا کہ کوئی شخص نظر آ جائے لیکن کوئی شخص نظر نہیں آیا پھر جب وہ نشیب میں پہنچیں تو دوڑنے لگیں اور کوہ مروہ پر آ گئیں اسی طرح انہوں نے چند چکر لگائے پھر کہنے لگیں کاش میں جا کر اپنے بچہ کو دیکھوں کہ کیا حال ہے جا کردیکھا تو اسماعیل کو اپنی سابقہ حالت میں پایا گویا ان کی جان نکل رہی ہے پھر ان کے دل کو قرار نہ آیا تو کہنے لگیں کہ کاش میں جا کر (ادھر ادھر) دیکھوں شاید کوئی مل جائے چنانچہ وہ چلی گئیں اور کوہ صفا پر چڑھ گئیں (ادھر ادھر) دیکھا اور خوب دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا حتیٰ کہ ایسے ہی انہوں نے پورے سات چکر لگائے پھر کہنے لگیں کاش میں جا کر اپنے بچہ کو دیکھوں کہ کس حال میں ہے تو یکایک ایک آواز آئی تو کہنے لگیں فریاد رسی کر اگر تیرے پاس بھلائی ہے تو اچانک جبرئیل علیہ السلام کو دیکھا ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ پھر جبریل نے اپنی ایڑی زمین پر ماری یا زمین کو اپنی ایڑی سے دبایا ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ (فورا) پانی پھوٹ پڑا اسمعیل علیہ السلام کی والدہ متحیر ہو گئیں اور گڑھا کھودنے لگیں ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے کہا کہ ابوالقاسم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتیں تو پانی زیادہ ہوجاتا ابن عباس نے کہا کہ وہ یہ پانی پیتیں اور ان کے دودھ کی دھاریں ان کے بچہ کے لئے بہتی رہتیں- ابن عباس نے کہا کچھ لوگ قبیلہ جرہم کے وسط وادی سے گزرے تو انہوں نے پرندے دیکھے تو انہیں تعجب ہونے لگا اور کہنے لگے کہ یہ پرندے تو صرف پانی پر ہوتے ہیں سو انہوں نے اپنا ایک آدمی بھیجا اس نے جا کر دیکھا تو وہاں پانی پایا اس نے آ کر سب لوگوں کو بتایالہذا وہ لوگ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے اسمعیل علیہ السلام کی والدہ کیا تم ہمیں اجازت دیتی ہو کہ ہم تمہارے ساتھ قیام کریں؟ ان کا بچہ (اسمٰعیل) جب بالغ ہوا تو اسی قبیلہ کی ایک عورت سے نکاح ہو گیا ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ابراہیم علیہ السلام کے دل میں آیا اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا میں اپنے چھوڑے ہوؤں کے حال سے واقف ہونا چاہتا ہوں ابن عباس کہتے ہیں ابراہیم آئے اور آ کر سلام کیا پھر پوچھا اسمعیل علیہ السلام کہاں ہیں؟ اسمعیل علیہ السلام کی بیوی نے کہا وہ شکار کے لیے گے ھیں ابراھیم نے کہا جب وہ آجائیں تو ان سے کہنا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ تبدیل کر دو جب وہ آئے اور ان کی بیوی نے انہیں (سب واقعہ بتایا) اسمٰعیل نے کہا کہ چوکھٹ سے مراد تم ہو لہذا تم اپنے گھر بیٹھو ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ابراہیم کے دل میں آیا تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے چھوڑے ہوؤں کے حال سے واقف ہونا چاہتا ہوں ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ ابراہیم آئے اور پوچھا کہ اسمعیل کہاں ہیں؟ ان کی بیوی نے کہا شکار کو گئے ہیں اور آپ ٹھہرتے کیوں نہیں؟ کہ کچھ کھائیں پئیں ابراہیم نے کہا تم کیا کھاتے اور پیتے ہو؟ انہوں نے کہا ہمارا کھانا گوشت اور پینا پانی ہے ابراہیم نے دعا کی کہ اے ﷲ ان کے کھانے پینے میں برکت عطا فرما ابن عباس نے کہا کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (مکہ میں کھانے پینے میں) حضرت ابراہیم کی دعا کی وجہ سے برکت ہے ابن عباس نے کہا پھر (چند روز بعد) ابراہیم کے دل میں آیا اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے چھوڑے ہوؤں کو دیکھنا چاہتا ہوں وہ آئے تو اسمعیل کو زمزم کے پیچھے اپنے تیروں کو درست کرتے ہوئے پایا پس ابراہیم نے کہا کہ اے اسمعیل! ﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کا ایک گھر بناؤں اسمعیل نے کہا پھر ﷲ کے حکم کی تکمیل کیجئے ابراہیم نے کہا کہ اس نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ تم اس کام میں میری مدد کرو اسمعیل نے کہا میں حاضر ہوں یا جو بھی فرمایا ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے کہا پھر دونوں کھڑے ہو گئے ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے تھے اور اسمعیل انہیں پتھر دیتے تھے اور دونوں کہہ رہے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ کام) قبول فرما بیشک تو سننے جاننے والا ہے حتیٰ کہ دیواریں اتنی بلند ہو گئیں کہ ابراہیم اپنے بڑھاپے کی وجہ سے پتھر اٹھانے سے عاجز ہو گئے سو وہ مقام (ابراہیم) کے پتھر پر کھڑے ہو گئے اسمٰعیل انہیں پتھر دینے لگے اور کہتے تھے (رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ) -



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment