کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
قریش کی خوبیوں کا بیان
حدیث نمبر
3250
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ کَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَلَغَ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَيَکُونُ مَلِکٌ مِنْ قَحْطَانَ فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ فَقَامَ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْکُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي کِتَابِ اللَّهِ وَلَا تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُولَئِکَ جُهَّالُکُمْ فَإِيَّاکُمْ وَالْأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا کَبَّهُ اللَّهُ عَلَی وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ
ابوالیمان شعیب زہری محمد بن جبیر بن مطعم رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ کو یہ خبر پہنچی اور اس وقت محمد بن جبیر قریش کی ایک جماعت کے ساتھ حضرت معاویہ کے پاس تھے) کہ عبد ﷲ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ قحطان (کے قبیلہ) میں سے کوئی بادشاہ ہو گا کہ حضرت معاویہ غضبناک ہو کر کھڑے ہو گئے پھر خدا تعالیٰ کی تعریف کی جیسی کہ اس کے لائق ہے اس کے بعد فرمایا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں جو کتاب ﷲ میں نہیں ہیں اور نہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہیں یہی لوگ تمہارے جہاں ہیں خبردار! تم گمراہ کن خیال پیدا نہ کرو میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ خلافت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو درست رکھیں گے جو شخص بھی ان سے دشمنی کرے گا خدا تعالیٰ اس کو اوندھے منہ گرا دے گا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment