کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اہل یمن سے حضرت اسمٰعیل کی رشتہ داری کا بیان
حدیث نمبر
3256
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ يَتَنَاضَلُونَ بِالسُّوقِ فَقَالَ ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاکُمْ کَانَ رَامِيًا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَکُوا بِأَيْدِيهِمْ فَقَالَ مَا لَهُمْ قَالُوا وَکَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ ارْمُوا وَأَنَا مَعَکُمْ کُلِّکُمْ
مسدد یحییٰ یزید حضرت سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم قبیلہ اسلم کے کچھ لوگوں کی طرف تشریف لے گئے اور وہ بازار میں تیر اندازی کر رہے تھے تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے اولاد اسمٰعیل تیر اندازی کرو اس لئے کہ تمہارے باپ (اسمٰعیل) تیر انداز تھے اور میں فلاں شخصوں کے ساتھ ہوں کسی ایک فریق کے بارے میں (آپ نے ایسا فرمایا) پس دوسرے فریق کے لوگوں نے اپنے ہاتھ روک لئے حضور نے فرمایا کہ ان کو کیا ہو گیا لوگوں نے کہا ہم کیسے تیر اندازی کریں آپ تو فلاں کے ساتھ ہیں فرمایا تیر اندازی کرو میں سب کے ساتھ ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment