Saturday, April 9, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:627, Total Hadith no: 3163


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
حدیث نمبر
3163
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ وَخِلَاسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مُوسَی کَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سِتِّيرًا لَا يُرَی مِنْ جِلْدِهِ شَيْئٌ اسْتِحْيَائً مِنْهُ فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالُوا مَا يَسْتَتِرُ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلَّا مِنْ عَيْبٍ بِجِلْدِهِ إِمَّا بَرَصٌ وَإِمَّا أُدْرَةٌ وَإِمَّا آفَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ مِمَّا قَالُوا لِمُوسَی فَخَلَا يَوْمًا وَحْدَهُ فَوَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَی الْحَجَرِ ثُمَّ اغْتَسَلَ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ إِلَی ثِيَابِهِ لِيَأْخُذَهَا وَإِنَّ الْحَجَرَ عَدَا بِثَوْبِهِ فَأَخَذَ مُوسَی عَصَاهُ وَطَلَبَ الْحَجَرَ فَجَعَلَ يَقُولُ ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ حَتَّی انْتَهَی إِلَی مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا أَحْسَنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ وَأَبْرَأَهُ مِمَّا يَقُولُونَ وَقَامَ الْحَجَرُ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَلَبِسَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ فَوَاللَّهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ ضَرْبِهِ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا فَذَلِکَ قَوْلُهُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَکُونُوا کَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَی فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا
اسحق بن ابراہیم روح بن عبادۃ عوف حسن و محمد خلاس حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ بڑے شرمیلے اور ستر پوش آدمی تھے ان کی شرم کی وجہ سے ان کے جسم کا ذرا سا حصہ بھی ظاہر نہ ہوتا تھا بنی اسرائیل نے انہیں اذیت پہنچائی اور انہوں نے کہا کہ یہ جو اتنی پردہ پوشی کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ ان کا جسم عیب دار ہے یا تو انہیں برص ہے یا انتفاخ خصتین ہے یا اور کوئی بیماری ہے- ﷲ تعالیٰ نے موسیٰ کو ان تمام بہتانوں سے پاک صاف کرنا چاہا سو ایک دن موسیٰ نے تنہائی میں جا کر کپڑے اتار کر پتھر پر رکھ دیئے پھر غسل کیا جب غسل سے فارغ ہوئے تو اپنے کپرے لینے چلے مگر وہ پتھر ان کے کپڑے لے کا بھاگا موسیٰ اپنا عصا لے کر پتھر کے پیچھے چلے اور کہنے لگے اے پتھر! میرے کپڑے دے اے پتھر! میرے کپڑے دے حتیٰ کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے پاس پہنچ گیا انہوں نے برہنہ حالت میں موسیٰ کو دیکھا، تو ﷲ کی مخلوقات میں سب سے اچھا اور ان تمام عیوب سے جو وہ منسوب کرتے تھے انہوں نے بری پایا وہ پتھر ٹھر گیا اور موسیٰ نے اپنے کپڑے لے کر پہن لئے پھر موسیٰ نے اپنے عصا سے اس پتھر کو مارنا شروع کیا پس بخدا موسیٰ کے مارنے کی وجہ سے اس پتھر میں تین یا چار یا پانچ نشانات ہو گئے یہی اس آیت کریمہ کا مطلب ہے کہ اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو ﷲ نے انہیں اس بات سے (جو وہ موسیٰ کے بارے میں کہتے تھے) بری کردیا اور وہ ﷲ کے نزدیک باعزت تھے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment