کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
خداتعالی كا ارشاد هے یه اهل كتاب (محمد صلی الله علیه وسلم) كو ایسا پهچانتے هیں جس طرح اپنے بیٹوں كو پهچانتے هیں لیكن جان بوجھ كرحق كو چھپاتے هیں .
حدیث نمبر
3375
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ الْيَهُودَ جَائُوا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ فَقَالُوا نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ کَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَی آيَةِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ارْفَعْ يَدَکَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَقَالُوا صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَجْنَأُ عَلَی الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ
عبد ﷲ مالک نافع حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ یہود کی ایک جماعت نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں (ایک دن) حاضر ہو کر عرض کیا کہ ان کی قوم میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تورات میں رجم کی بابت تم کیا (حکم) پاتے ہو انہوں نے کہا ہم زنا کرنے والے کو ذلیل و رسوا کرتے ہیں اور ان کے درے لگائے جاتے ہیں عبد ﷲ بن سلام نے کہا تم جھوٹے ہو- تورات میں رجم کا حکم ہے- تورات لاؤ- چناچہ انہوں نے تورات کو کھولا ان میں سے ایک شخص نے تورات کی آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر اس کو چھپا لیا اور آگے پیچھے کا مضمون پڑھتا رہا- عبد ﷲ بن سلام نے کہا ذرا اپنا ہاتھ ہٹا- چناچہ اس نے اپنا ہاتھ ہٹایا تو وہاں رجم کی آیت موجود تھی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان دونوں زانیوں کو رجم کا حکم دیا وہ دونوں سنگسار کر دیئے گئے- عبد ﷲ بن عمر فرماتے ہیں میں نے مرد کو دیکھا وہ عورت پر جھکا پڑتا تھا اور اس کو پتھروں سے بچانا چاہتا تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment