کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
آیت کریمہ اور ہم نے داؤد کو سلیمان (جیسا بیٹا) عنایت فرمایا
حدیث نمبر
3181
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنْ الْجِنِّ تَفَلَّتَ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلَاتِي فَأَمْکَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبُطَهُ عَلَی سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّی تَنْظُرُوا إِلَيْهِ کُلُّکُمْ فَذَکَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ هَبْ لِي مُلْکًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي فَرَدَدْتُهُ خَاسِئًا عِفْرِيتٌ مُتَمَرِّدٌ مِنْ إِنْسٍ أَوْ جَانٍّ مِثْلُ زِبْنِيَةٍ جَمَاعَتُهَا الزَّبَانِيَةُ
محمد بن بشار محمد بن جعفر شعبہ محمد بن زیاد حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ ایک سرکش جن یکایک رات میرے پاس آیا تا کہ میری نماز توڑ ڈالے پس ﷲ نے مجھے اس پر قدرت دی میں نے اسے پکڑ لیا اور میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دوں تاکہ (صبح کو) تم سب لوگ اسے دیکھو پس مجھے اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آئی کہ اے میرے پروردگار مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نہ ملے تو میں نے اسے نامراد و ناکام واپس کر دیا عفریت کے معنی سرکش چاہے انسان ہو یا جن (بعض قراء تو ں میں عفریتہ ہے) اس کے بارے میں امام بخاری کہتے ہیں کہ اگر یہ عفریتہ ہو تو زبنیتہ کی طرح ہو گا جس کی جمع زبانیہ آتی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment