کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
حدیث نمبر
3222
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا ثُمَّ خَرَجَ يَسْأَلُ فَأَتَی رَاهِبًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ هَلْ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا فَقَتَلَهُ فَجَعَلَ يَسْأَلُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ ائْتِ قَرْيَةَ کَذَا وَکَذَا فَأَدْرَکَهُ الْمَوْتُ فَنَائَ بِصَدْرِهِ نَحْوَهَا فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِکَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِکَةُ الْعَذَابِ فَأَوْحَی اللَّهُ إِلَی هَذِهِ أَنْ تَقَرَّبِي وَأَوْحَی اللَّهُ إِلَی هَذِهِ أَنْ تَبَاعَدِي وَقَالَ قِيسُوا مَا بَيْنَهُمَا فَوُجِدَ إِلَی هَذِهِ أَقْرَبَ بِشِبْرٍ فَغُفِرَ لَهُ
محمد بن بشار محمد بن ابی عدی شعبہ قتادہ ابوصدیق ابوسعید نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا- بنی اسرائیل کے ایک شخص نے ننانوے آدمیوں کو قتل کر دیا تھا پھر اس کی بابت مسئلہ دریافت کرنے کو نکلا پہلے ایک درویش کے پاس آیا اور اس سے دریافت کیا کہ کیا (میری) توبہ قبول ہے؟ درویش نے کہا نہیں اس نے اس درویش کو بھی قتل کر دیا اس کے بعد پھر وہ یہ مسئلہ پوچھنے کی جستجو میں لگا رہا- کسی نے کہا فلاں بستی میں ایک عالم ہے ان کے پاس جا کر پوچھ لو (چناچہ وہ چل پڑا لیکن راستہ ہی میں) اس کو موت آ گئی (مرتے وقت اس نے اپنا سینہ) اس بستی کی طرف بڑھا دیا (جہاں جا کر وہ مسئلہ دریافت کرنا چاہتا تھا) رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں اس کے بارہ میں باہم تکرار ہوئی (رحمت کے فرشتے کہتے کہ اس کی روح کو ہم لے جائیں گے کیونکہ یہ توبہ کا پختہ ارادہ رکھتا تھا عذاب کے فرشتے کہتے کہ اس کی روح کو ہم لے جائیں گے کیونکہ یہ سخت گنہگار تھا اسی اثناء میں خدا نے اس بستی کو (جہاں جا کر وہ توبہ کرنا چاہتا تھا) یہ حکم دیا کہ اے بستی (اس سے) نزدیک ہو جا اور اس بستی کو (جہاں اس نے گناہ کا ارتکاب کیا تھا) یہ حکم دیا کہ تو دور ہو جا اور (فرشتوں کو حکم دیا کہ) دونوں بستیوں کی مسافت ناپو (دیکھو یہ مردہ کس بستی کے قریب ہے چناچہ) وہ مردہ اس بستی سے (جہاں وہ توبہ کرنے جا رہا تھا) بالشت بھر نزدیک تھی خدا نے اسے بخش دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment