Wednesday, April 13, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:687, Total Hadith no: 3223


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
حدیث نمبر
3223
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَکِبَهَا فَضَرَبَهَا فَقَالَتْ إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحَرْثِ فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ بَقَرَةٌ تَکَلَّمُ فَقَالَ فَإِنِّي أُومِنُ بِهَذَا أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ وَبَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ عَدَا الذِّئْبُ فَذَهَبَ مِنْهَا بِشَاةٍ فَطَلَبَ حَتَّی کَأَنَّهُ اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ هَذَا اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ ذِئْبٌ يَتَکَلَّمُ قَالَ فَإِنِّي أُومِنُ بِهَذَا أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
علی سفیان ابوزناد اعرج ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر پڑھ کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا کہ ایک شخص بیل ہانک رہا تھا ہانکتے ہانکتے اس پر سوار ہو کر اس کو مارنے لگا بیل نے کہا کہ ہم سواری کے لئے پیدا نہیں کئے گئے ہم کو تو کھیتی کے لئے پیدا کیا گیا ہے، لوگوں نے کہا سبحان ﷲ! بیل بول رہا ہے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اور ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ و عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اس واقعہ پر ایمان لاتے ہیں حالانکہ ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ و عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ وہاں موجود نہ تھے (لیکن حضرت صلی ﷲ علیہ والہ وسلم نے ان پر پورا اعتماد رکھنے کی وجہ سے ان کی طرف سے شہاد ت دی) ایک مرتبہ ایک شخص کی بکریوں پر ایک بھیڑیے نے جست لگائی اور ایک بکری اٹھا لے گیا رکھوالے نے (بھیڑیے کا) پیچھا کر کے بکری چھڑا لی تو اس بھیڑیے نے کہا اس بکری کو تو نے مجھ سے چھڑا لیا لیکن درندہ والے دن بکری کا محافظ کون ہو گا؟ جس روز میرے سوا اس کا چرواہا نہ ہو گا لوگوں نے (تعجب سے) کہا سبحان ﷲ! بھیڑیا بھی باتیں کرتا ہے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مگر میں اور ابوبکر و عمر اس پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ یہ دونوں حضرات اس وقت وہاں موجود نہ تھے نیز ایک دوسری سند کے ذریعہ حضرت ابوہریرہ نے رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی ایک اور حدیث روایت کی ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment