کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر
3329
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ کَانُوا أُنَاسًا فُقَرَائَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً مَنْ کَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ وَمَنْ کَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ أَوْ سَادِسٍ أَوْ کَمَا قَالَ وَأَنَّ أَبَا بَکْرٍ جَائَ بِثَلَاثَةٍ وَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ وَأَبُو بَکْرٍ ثَلَاثَةً قَالَ فَهُوَ أَنَا وَأَبِي وَأُمِّي وَلَا أَدْرِي هَلْ قَالَ امْرَأَتِي وَخَادِمِي بَيْنَ بَيْتِنَا وَبَيْنَ بَيْتِ أَبِي بَکْرٍ وَأَنَّ أَبَا بَکْرٍ تَعَشَّی عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَتَّی صَلَّی الْعِشَائَ ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّی تَعَشَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَ بَعْدَ مَا مَضَی مِنْ اللَّيْلِ مَا شَائَ اللَّهُ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ مَا حَبَسَکَ عَنْ أَضْيَافِکَ أَوْ ضَيْفِکَ قَالَ أَوَعَشَّيْتِهِمْ قَالَتْ أَبَوْا حَتَّی تَجِيئَ قَدْ عَرَضُوا عَلَيْهِمْ فَغَلَبُوهُمْ فَذَهَبْتُ فَاخْتَبَأْتُ فَقَالَ يَا غُنْثَرُ فَجَدَّعَ وَسَبَّ وَقَالَ کُلُوا وَقَالَ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا قَالَ وَايْمُ اللَّهِ مَا کُنَّا نَأْخُذُ مِنْ اللُّقْمَةِ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَکْثَرُ مِنْهَا حَتَّی شَبِعُوا وَصَارَتْ أَکْثَرَ مِمَّا کَانَتْ قَبْلُ فَنَظَرَ أَبُو بَکْرٍ فَإِذَا شَيْئٌ أَوْ أَکْثَرُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ قَالَتْ لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي لَهِيَ الْآنَ أَکْثَرُ مِمَّا قَبْلُ بِثَلَاثِ مَرَّاتٍ فَأَکَلَ مِنْهَا أَبُو بَکْرٍ وَقَالَ إِنَّمَا کَانَ الشَّيْطَانُ يَعْنِي يَمِينَهُ ثُمَّ أَکَلَ مِنْهَا لُقْمَةً ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ وَکَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَمَضَی الْأَجَلُ فَتَفَرَّقْنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مَعَ کُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أُنَاسٌ اللَّهُ أَعْلَمُ کَمْ مَعَ کُلِّ رَجُلٍ غَيْرَ أَنَّهُ بَعَثَ مَعَهُمْ قَالَ أَکَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ أَوْ کَمَا قَالَ
موسیٰ معتمر ابوعثمان حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی ﷲ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ اصحاب صفہ مفلس اور فقیر لوگ تھے ایک دن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے (صحابہ سے) فرمایا جس شخص کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ ایک تیسرا آدمی (ان میں سے) لے جائے- اور جس کے پاس چار آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ پانچویں اور اس سے زیادہ ہو تو چھٹے کو لے جائے- چناچہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تین آدمیوں کو لائے اور رسول خدا صلی ﷲ علیہ وسلم دس آدمیوں کو لے گئے حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے گھر میں تین آدمی تھے میرے والد اور میری والدہ اور ایک خادم جو ہمارا اور ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا مشترک تھا (اس رات کو) ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے شب کا کھانا بھی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ کھایا پھر وہیں تو قف کیا اور عشاء کی نماز بھی وہیں پڑھی- اور حضور صلی ﷲ علیہ وسلم ہی کے پاس ٹھرے رہے اس کے بعد بہت رات گئے گھر لوٹے تو ان سے ان کی بیوی نے کہا- آپ کو اپنے مہمانوں کا خیال نہ آیا- ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا ہے؟ ان کی بیوی نے کہا انہوں نے اس وقت تک کھانا کھانے سے انکار کیا جب تک تم نہ آ جاؤ- لوگوں نے ان کے سامنے کھانا پیش کیا مگر انہوں نے نہ مانا (عبدالرحمن کہتے ہیں) میں تو مارے خوف کے چھپ رہا ابوبکر نے کہا ارے غنثر (یہ ایک سخت کلمہ ہے جو ڈانٹ ڈپٹ کے وقت بولا جاتا ہے) پھر انہوں نے مجھے بہت سخت کہا اور کہا تم لوگ کھاؤ میں اس کھانے کو ہرگز نہ کھاؤں گا عبدالرحمن کہتے ہیں خدا کی قسم ہم جو لقمہ اس کے نیچے سے اٹھاتے اس سے زیادہ بڑھ جاتا ہے (یعنی جس جگہ سے کھانا اٹھاتے تھے وہ خالی ہونے کی بجائے کھانے سے بھر جاتی اور کھانے میں زیادتی ہو جاتی تھی یہاں تک کہ سب لوگ شکم سیر ہو گئے اور وہ کھانا اس سے بھی تین گنا زیادہ ہو گیا- ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی سے کہا اے بنی فراس کی بہن! یہ کھانا تو پہلے سے بھی زیادہ ہے- انہوں نے کہا اپنی ٹھنڈی آنکھ کی قسم ہے- بے شک وہ کھانا تو پہلے سے تین گنا زیادہ ہے- پھر ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اس میں سے کھایا اور کہا وہ قسم شیطان کی وجہ سے تھی اس کے بعد اس کو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس لے گئے صبح تک وہ کھاناحضرت کے ہاں رہا ہمارے اور کچھ لوگوں کے درمیان معاہدہ تھا جب مدت معاہدہ گزر گئی تو ہم نے بارہ آدمی حکم اور جج بنائے ان میں ہر شخص کے ساتھ کچھ لوگ تھے خدا معلوم ہر شخص کے ہمراہ کتنے آدمی تھے- بہر حال پانچوں کے ساتھ ان لوگوں کو بھیجا گیا عبدالرحمن کہتے ہیں کہ اسی کھانے میں سے سب لوگوں نے کھایا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment