کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر
3330
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ وَعَنْ يُونُسَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ قَحْطٌ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ جُمُعَةٍ إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَکَتْ الْکُرَاعُ هَلَکَتْ الشَّائُ فَادْعُ اللَّهَ يَسْقِينَا فَمَدَّ يَدَيْهِ وَدَعَا قَالَ أَنَسٌ وَإِنَّ السَّمَائَ لَمِثْلُ الزُّجَاجَةِ فَهَاجَتْ رِيحٌ أَنْشَأَتْ سَحَابًا ثُمَّ اجْتَمَعَ ثُمَّ أَرْسَلَتْ السَّمَائُ عَزَالِيَهَا فَخَرَجْنَا نَخُوضُ الْمَائَ حَتَّی أَتَيْنَا مَنَازِلَنَا فَلَمْ نَزَلْ نُمْطَرُ إِلَی الْجُمُعَةِ الْأُخْرَی فَقَامَ إِلَيْهِ ذَلِکَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ فَادْعُ اللَّهَ يَحْبِسْهُ فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَنَظَرْتُ إِلَی السَّحَابِ تَصَدَّعَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ کَأَنَّهُ إِکْلِيلٌ
مسدد عبدالعزیز انس یونس ثابت حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں (ایک) مرتبہ قحط پڑا- ان ہی ایام میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ پڑھ رہے تھے، کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم گھوڑے مر گئے بکریاں ہلاک ہو گئیں- خدا تعالیٰ سے ہمارے لئے دعا فرمایئے کہ وہ آب رحمت برسائے- آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کے لئے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے اور دعا کی- حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں اس وقت آسمان شیشے کی طرح بالکل صاف تھا اس پر ابر کا ایک ٹکڑا بھی نہ تھا- ایک ہوا چلی بادل آئے اور آسمان نے اپنا منہ کھول دیا اتنی بارش ہوئی کہ ہم پانی میں اپنے گھر پہنچے اور دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی دوسرے جمعہ اسی شخص نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مکانا ت گر پڑے آپ ﷲ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ پانی کو روک دے- تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اس کے بعد فرمایا ہمارے آس پاس برس ہمارے اوپر نہ برس- بس میں نے ابر کی طرف دیکھا کہ وہ مدینہ کے آس پاس ہٹ گیا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ بادلوں کے درمیان تاج کی طرح نظر آ رہا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment