کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
آیت کریمہ بیشک یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصہ) میں پوچھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں کا بیان۔
حدیث نمبر
3150
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتِ قَوْلَهُ حَتَّی إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ کُذِّبُوا أَوْ کُذِبُوا قَالَتْ بَلْ کَذَّبَهُمْ قَوْمُهُمْ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَقَدْ اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ کَذَّبُوهُمْ وَمَا هُوَ بِالظَّنِّ فَقَالَتْ يَا عُرَيَّةُ لَقَدْ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِکَ قُلْتُ فَلَعَلَّهَا أَوْ کُذِبُوا قَالَتْ مَعَاذَ اللَّهِ لَمْ تَکُنِ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِکَ بِرَبِّهَا وَأَمَّا هَذِهِ الْآيَةُ قَالَتْ هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَصَدَّقُوهُمْ وَطَالَ عَلَيْهِمْ الْبَلَائُ وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمْ النَّصْرُ حَتَّی إِذَا اسْتَيْأَسَتْ مِمَّنْ کَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ وَظَنُّوا أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ کَذَّبُوهُمْ جَائَهُمْ نَصْرُ اللَّهِ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ اسْتَيْأَسُوا اسْتَفْعَلُوا مِنْ يَئِسْتُ مِنْهُ مِنْ يُوسُفَ لَا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ مَعْنَاهُ من الرَّجَائُ حدثنا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْکَرِيمُ ابْنُ الْکَرِيمِ ابْنِ الْکَرِيمِ ابْنِ الْکَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمْ السَّلَام
یحییٰ بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب عروہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے زوجہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم عائشہ رضی ﷲ عنہا سے دریافت کیا کہ بتائے (فرمان خداوند ی) جب رسول مایوس ہو گئے اور انہیں یہ گمان ہوا کہ انکی قوم انہیں جھٹلا دے گی میں کذبوا کے ذال پر تشدید ہے یا نہیں؟ یعنی کذبوا ہے یا تو انہوں نے فرمایا (کذبوا ہے) کیو نکہ انکی قوم تکذیب کرتی تھی میں نے عرض کیا بخدا رسولوں کو تو اپنی قوم کی تکذیب کا یقین تھا (پھر ظنوا کیونکر صادق آئیگا) تو عائشہ رضی ﷲ عنہا نے فرمایا اے عریہ (تصغیر عروہ) بیشک انہیں اس بات کا یقین تھا میں نے عرض کیا تو شاید یہ کذبوا ہے عائشہ رضی ﷲ عنہا نے فرمایا معاذ ﷲ انبیاء ﷲ کے ساتھ ایسا گمان نہیں کر سکتے (کیونکہ اس طرح معنی یہ ہوں گے کہ انہیں یہ گمان ہوا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا یعنی معاذ ﷲ خدا نے فتح کا وعدہ پورا نہیں کیا لیکن مندرجہ بالا آیت میں ان رسولوں کے وہ متبعین مراد ہیں جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تھے اور پیغمبروں کی تصدیق کی تھی پھر ان کی آزمائش ذرا طویل ہو گئی اور مدد آنے میں تاخیر ہوئی حتیٰ کہ جب پیغمبر اپنی قوم سے جھٹلانے والوں کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور انہیں یہ گمان ہونے لگا کہ ان کے متبعین بھی ان کی تکذیب کر دیں گے تو ﷲ کی مدد آ گئی امام بخاری فرماتے ہیں کہ استیاسوا یئست باب افتعال سے ہے یعنی یوسف مایوس ہو گئے ( لَا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ کے معنی ہیں کہ ﷲ کی رحمت کے امیدوار ہو عبدہ عبدالصمد عبدالرحمن ان کے والد ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یوسف بن یعقوب بن اسحق بن ابراہیم کریم بن کریم بن کریم بن کریم ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment