Saturday, April 9, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:613, Total Hadith no: 3149


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
آیت کریمہ بیشک یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصہ) میں پوچھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں کا بیان۔
حدیث نمبر
3149
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ رُومَانَ وَهِيَ أُمُّ عَائِشَةَ عَمَّا قِيلَ فِيهَا مَا قِيلَ قَالَتْ بَيْنَمَا أَنَا مَعَ عَائِشَةَ جَالِسَتَانِ إِذْ وَلَجَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهِيَ تَقُولُ فَعَلَ اللَّهُ بِفُلَانٍ وَفَعَلَ قَالَتْ فَقُلْتُ لِمَ قَالَتْ إِنَّهُ نَمَی ذِکْرَ الْحَدِيثِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَيُّ حَدِيثٍ فَأَخْبَرَتْهَا قَالَتْ فَسَمِعَهُ أَبُو بَکْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ نَعَمْ فَخَرَّتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا فَمَا أَفَاقَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا حُمَّی بِنَافِضٍ فَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِهَذِهِ قُلْتُ حُمَّی أَخَذَتْهَا مِنْ أَجْلِ حَدِيثٍ تُحُدِّثَ بِهِ فَقَعَدَتْ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لَا تُصَدِّقُونِي وَلَئِنْ اعْتَذَرْتُ لَا تَعْذِرُونِي فَمَثَلِي وَمَثَلُکُمْ کَمَثَلِ يَعْقُوبَ وَبَنِيهِ فَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَی مَا تَصِفُونَ فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ مَا أَنْزَلَ فَأَخْبَرَهَا فَقَالَتْ بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِ أَحَدٍ
محمد بن سلام ابن فصیل حصین سفیان مسروق سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کی والدہ ام رومان سے واقعہ افک کے بارے میں معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ میں اور عائشہ دونوں بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک انصاری عورت ہمارے پاس یہ کہتی ہوئی آئی کہ فلاں پر ﷲ کی لعنت ہو اور لعنت کا عذاب تو اس پر مسلط بھی ہو چکا ام رومان کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا یہ کیوں؟ اس انصاریہ نے کہا کیونکہ اس نے اس بات کے ذکر کو پھیلایا اور بڑھایا ہے عائشہ رضی ﷲ عنہا نے کہا کونسی بات؟ تب اس نے وہ افک کا واقعہ بتایا عائشہ نے پوچھا کیا رسول ﷲ اور ابوبکر نے بھی یہ بات سنی ہے؟ انصاریہ نے کہا ہاں! پس عائشہ رضی ﷲ عنہا (اس صدمہ سے) بیہوش ہو کر گر پڑیں جب انہیں ہوش آیا تو انہیں جاڑے کے ساتھ بخارا چڑھا ہوا تھا پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تشریف لائے تو پوچھا کہ انہیں کیا ہو گیا میں نے کہا جو بات آپ صلی ﷲ علیہ وسلم سے بیان کی گئی ہے اس کے صدمہ سے بخارا آ گیا ہے پھر عائشہ اٹھ بیٹھیں اور کہنے لگیں کہ بخدا اگر میں قسم کھاؤ نگی تو تم یقین نہ کرو گے اور اگر عذر بیان کروں گی تو نہ مانو گے بس میری اور تمہاری مثال یعقوب اور ان کے بیٹوں کی طرح ہے بس ﷲ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے اس پر جو تم بیان کرتے ہو چنانچہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم واپس ہوئے اور ﷲ نے اس باب میں جو کچھ نازل فرمایا تھا نازل فرمایا آپ نے عائشہ کو اس کی اطلاع دی تو انہوں نے کہا میں ﷲ کا شکر ادا کروں گی کسی اور کا نہیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment