Wednesday, April 13, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:669, Total Hadith no: 3205


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
بنی اسرائیل کے واقعات کا بیان
حدیث نمبر
3205
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو لِحُذَيْفَةَ أَلَا تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ مَعَ الدَّجَّالِ إِذَا خَرَجَ مَائً وَنَارًا فَأَمَّا الَّذِي يَرَی النَّاسُ أَنَّهَا النَّارُ فَمَائٌ بَارِدٌ وَأَمَّا الَّذِي يَرَی النَّاسُ أَنَّهُ مَائٌ بَارِدٌ فَنَارٌ تُحْرِقُ فَمَنْ أَدْرَکَ مِنْکُمْ فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَی أَنَّهَا نَارٌ فَإِنَّهُ عَذْبٌ بَارِدٌ قَالَ حُذَيْفَةُ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا کَانَ فِيمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ أَتَاهُ الْمَلَکُ لِيَقْبِضَ رُوحَهُ فَقِيلَ لَهُ هَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ قَالَ مَا أَعْلَمُ قِيلَ لَهُ انْظُرْ قَالَ مَا أَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ أَنِّي کُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا وَأُجَازِيهِمْ فَأُنْظِرُ الْمُوسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنْ الْمُعْسِرِ فَأَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ فَقَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا حَضَرَهُ الْمَوْتُ فَلَمَّا يَئِسَ مِنْ الْحَيَاةِ أَوْصَی أَهْلَهُ إِذَا أَنَا مُتُّ فَاجْمَعُوا لِي حَطَبًا کَثِيرًا وَأَوْقِدُوا فِيهِ نَارًا حَتَّی إِذَا أَکَلَتْ لَحْمِي وَخَلَصَتْ إِلَی عَظْمِي فَامْتُحِشَتْ فَخُذُوهَا فَاطْحَنُوهَا ثُمَّ انْظُرُوا يَوْمًا رَاحًا فَاذْرُوهُ فِي الْيَمِّ فَفَعَلُوا فَجَمَعَهُ اللَّهُ فَقَالَ لَهُ لِمَ فَعَلْتَ ذَلِکَ قَالَ مِنْ خَشْيَتِکَ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو وَأَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَاکَ وَکَانَ نَبَّاشًا
موسیٰ بن اسماعیل ابوعوانہ عبدالملک ربعی بن فراش سے روایت کرتے ہیں کہ عقبہ بن عمرو (یعنی حضرت ابومسعود انصاری) نے حذیفہ سے کہا تم ہمیں وہ باتیں کیوں نہیں سناتے جو تم نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہیں انہوں نے کہا میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوں گے پس جسے لوگ آگ سمجھ رہے ہونگے وہ تو (حقیقت میں) ٹھنڈا پانی ہو گا اور جسے لوگ پانی سمجھ رہے ہوں گے وہ جلانے والی آگ ہو گی جو شخص تم میں سے دجال کو پائے تو اسے اس میں گرنا چاہیے جسے وہ آگ سمجھ رہا ہو اس لئے کہ وہ حقیقت میں ٹھنڈا اور شیریں پانی ہو گا حذیفہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا اگلے لوگوں میں سے ایک شخص کے پاس اسکی روح قبض کرنے کے لئے ملک الموت آیا (چنانچہ جب وہ مر گیا) تو اس سے سوال ہوا کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں اس سے کہا گیا (اچھی طرح) سوچ اس نے کہا اس کے سوا مجھے کوئی معلوم نہیں کہ میں دنیا میں لوگوں کے ہاتھ (قرض) بیچا کرتا اور ان سے تقاضا کیا کرتا تھا تو میں مالدار کو مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست کو معاف کردیتا تھا تو ﷲ نے اسے جنت میں داخل کر لیا حذیفہ نے کہا کہ میں نے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی کا موت کا وقت قریب آیا اور اسے اپنی زندگی سے مایوسی ہوئی تو اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو بہت لکڑیاں جمع کر کے ان میں آگ لگا دینا (اور مجھے اس میں ڈال دینا) حتیٰ کہ جب آگ میرے گوشت کو ختم کر کے ہڈیوں تک پہنچے اور انہیں جلا کر کوئلہ کر دے تو وہ کوئلے لے کر پیس لینا پھر جس دن تیز ہوا ہو اس (راکھ) کو دریا میں ڈال دینا اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا ﷲ تعالیٰ نے اس کے ذرات) کو جمع کر کے (اور حالت جسم پر لا کر) اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا اس نے کہا تیرے خوف سے سو ﷲ نے اسے بخش دیا عقبہ بن عمرو کہتے ہیں کہ میں حذیفہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سن رہا تھا کہ وہ شخص کفن چور تھا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment