Wednesday, April 13, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:657, Total Hadith no: 3193


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اس فرمان الٰہی کا بیان کہ اور کتاب میں مریم کا ذکر کیجئے جب وہ اپنے گھر والوں سے جدا ہو گئیں۔
حدیث نمبر
3193
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ لَقِيتُ مُوسَی قَالَ فَنَعَتَهُ فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ قَالَ مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ قَالَ وَلَقِيتُ عِيسَی فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَبْعَةٌ أَحْمَرُ کَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي الْحَمَّامَ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ قَالَ وَأُتِيتُ بِإِنَائَيْنِ أَحَدُهُمَا لَبَنٌ وَالْآخَرُ فِيهِ خَمْرٌ فَقِيلَ لِي خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ فَقِيلَ لِي هُدِيتَ الْفِطْرَةَ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَمَا إِنَّکَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُکَ
ابراہیم بن موسیٰ ہشام معمر (دوسری سند) محمود عبدالرزاق معمر زہری سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج کے سلسلہ میں فرمایا کہ موسیٰ سے ملا ابوہریرہ کہتے ہیں کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان کا حلیہ بیان کیا کہ وہ (عبدالرزاق کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں) دراز قامت سیدھے بالوں والے تھے گویا وہ (قبیلہ) شنوه كے آدمی ہیں آپ نے فرمایا اور میں عیسی سے ملا، تو ان كا حلیه نبی صلی الله علیه وسلم نے یه بیان كیا، كه متوسط قد، سرخ رنگ كے ہیں، گویا حمام سے ابھی نكل كر آرهے ہیں اور میں نے ابراهیم كو دیكها اور میں انكی اولاد میں سب سے زیاده مشابه هوں .آپ نے فرمایا پهر میرے پاس دو پیالے لائے گئے ایک میں دوده اور دوسرے میں شراب تھی، مجھے كہا گیا كه ان میں سے جسے چاهو لے لو، یا یہ فرمایا كہ تم فطرت تک پہنچ گئے اگر تم شراب لے لیتے تو تمهاری امت گمراه هو جاتی .



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment