کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اس فرمان الٰہی کا بیان کہ اور کتاب میں مریم کا ذکر کیجئے جب وہ اپنے گھر والوں سے جدا ہو گئیں۔
حدیث نمبر
3192
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَتَکَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَی وَکَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ کَانَ يُصَلِّي جَائَتْهُ أُمُّهُ فَدَعَتْهُ فَقَالَ أُجِيبُهَا أَوْ أُصَلِّي فَقَالَتْ اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّی تُرِيَهُ وُجُوهَ الْمُومِسَاتِ وَکَانَ جُرَيْجٌ فِي صَوْمَعَتِهِ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ امْرَأَةٌ وَکَلَّمَتْهُ فَأَبَی فَأَتَتْ رَاعِيًا فَأَمْکَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَتْ مِنْ جُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ فَکَسَرُوا صَوْمَعَتَهُ وَأَنْزَلُوهُ وَسَبُّوهُ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّی ثُمَّ أَتَی الْغُلَامَ فَقَالَ مَنْ أَبُوکَ يَا غُلَامُ قَالَ الرَّاعِي قَالُوا نَبْنِي صَوْمَعَتَکَ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ لَا إِلَّا مِنْ طِينٍ وَکَانَتْ امْرَأَةٌ تُرْضِعُ ابْنًا لَهَا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ رَاکِبٌ ذُو شَارَةٍ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهُ فَتَرَکَ ثَدْيَهَا وَأَقْبَلَ عَلَی الرَّاکِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی ثَدْيِهَا يَمَصُّهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَصُّ إِصْبَعَهُ ثُمَّ مُرَّ بِأَمَةٍ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ فَتَرَکَ ثَدْيَهَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا فَقَالَتْ لِمَ ذَاکَ فَقَالَ الرَّاکِبُ جَبَّارٌ مِنْ الْجَبَابِرَةِ وَهَذِهِ الْأَمَةُ يَقُولُونَ سَرَقْتِ زَنَيْتِ وَلَمْ تَفْعَلْ
مسلم بن ابراہیم جریر بن حازم محمد بن سیرین ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے عیسیٰ اور بنو اسرائیل میں ایک آدمی تھا جس کا نام جریج تھا وہ نماز پڑھ رہا تھا- تو اس کی ماں نے آ کر آواز دی اس نے (اپنے دل میں) کہا آیا میں جواب دوں یا نماز پڑھتا رہوں اس کی ماں نے بدعا کی اے ﷲ جب تک یہ زانیہ عورتوں کی صورت نہ دیکھ لے اسے موت نہ آئے جریج اپنے عبادت خانہ میں رہتے تھے (ایک دن) ایک عورت ان کے پاس آئی اور کچھ گفتگو کی مگر انہوں نے (اس کی خواہش پوری کرنے سے انکار) کردیا پھر وہ ایک چرواہے کے پاس پہنچی اور اسے اپنے اوپر قابو دے دیا پھر اس کے ایک لڑکا پیدا ہوا تو اس نے کہا یہ لڑکا جریج کا ہے لوگ جریج کے پاس آئے اور ان کا عبادت خانہ توڑ دیا اور انہیں نیچے اتار کر گالیاں دیں جریج نے وضو کر کے نماز پڑھی اور اس بچہ کے پاس آ کر کہا اے بچے تیرا باپ کون ہے؟ اس نے کہا چرواہا (اب) لوگوں نے کہا ہم تمہارا عبادت خانہ سونے کا بنائے دیتے ہیں- انہوں نے کہا نہیں مٹی کا ہی بنا دو اور بنی اسرائیل کی ایک عورت اپنے بچہ کو دودھ پلا رہی تھی کہ اس کے پاس سے ایک خوبصورت سوار گزرا عورت نے کہا اے خدا میرے بچہ کو اس طرح کرنا بچہ اپنی ماں کا پستان چھوڑ کر سوار کی طرف متوجہ ہو کر بولا اے خدا مجھے اس جیسا نہ کرنا پھر وہ پستان کی طرف متوجہ ہو کر چوسنے لگا ابوہریرہ فرماتے ہیں گویا میں اب (نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا کہ آپ اپنی انگلی چوس کر) اس بچہ کے دودھ پینے کی حالت بتا رہے تھے پھر اس عورت کے پاس سے ایک باندی گزری تو اس نے کہا اے خدا میرے بچہ کو اس باندی جیسا نہ کرنا بچہ نے پستان چھوڑ کر کہا اے خدا مجھے اس جیسا کرنا- ماں نے پوچھا یہ کیوں بچہ نے کہا وہ سوار تو ظالموں میں سے ایک ظالم تھا اور اس باندی کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ تو نے چوری کی- تو نے زنا کیا، حالانکہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment