کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
آیت کریمہ بیشک یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصہ) میں پوچھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں کا بیان۔
حدیث نمبر
3148
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ هُوَ ابْنُ أَخِي جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ کَانَ يَأْوِي إِلَی رُکْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِي لَأَجَبْتُهُ
عبد ﷲ بن محمد بن اسماء بن اخی جویریہ جویریہ بن اسماء مالک زہری سعید بن مسیب اور ابوعبید حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ﷲ تعالیٰ لوط (علیہ السلام) پر رحم کرے وہ کسی مضبوط رکن سے پناہ لینا چاہتے تھے اور اگر میں قید خانہ میں اتنے زمانہ رہتا جتنے کہ یوسف رہے تو اس بلانے والے کی بات فورا مان لیتا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment