کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مکاتب کرنے کا بیان
باب
منیحہ کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر
2448
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ مِنْ مَکَّةَ وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ يَعْنِي شَيْئًا وَکَانَتْ الْأَنْصَارُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَالْعَقَارِ فَقَاسَمَهُمْ الْأَنْصَارُ عَلَی أَنْ يُعْطُوهُمْ ثِمَارَ أَمْوَالِهِمْ کُلَّ عَامٍ وَيَکْفُوهُمْ الْعَمَلَ وَالْمَئُونَةَ وَکَانَتْ أُمُّهُ أُمُّ أَنَسٍ أُمُّ سُلَيْمٍ کَانَتْ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ فَکَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذَاقًا فَأَعْطَاهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلَاتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِ أَهْلِ خَيْبَرَ فَانْصَرَفَ إِلَی الْمَدِينَةِ رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِلَی الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمْ الَّتِي کَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أُمِّهِ عِذَاقَهَا وَأَعْطَی رَسُولُ اللَّه صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَکَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ أَخْبَرَنَا أَبِي عَنْ يُونُسَ بِهَذَا وَقَالَ مَکَانَهُنَّ مِنْ خَالِصِهِ
عبد ﷲ بن یوسف ابن وہب یونس ابن شہاب انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو ان کے پاس کچھ نہیں تھا اور انصار زمین و جائیداد کے مالک تھے انصار نے زمینیں اور جائیداد مہاجرین میں اس شرط پر تقسیم کردیں کہ ہر سال ان کے پھل اور پیداوار دیا کریں گے اور محنت و مزدوری مہاجرین کریں گے اور انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی ماں یعنی ام سلیم جو عبدﷲ بن ابی طلحہ کی بھی ماں تھیں انہوں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو کھجور کے چند درخت دیئے- رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے وہ درخت اپنی آزاد کر دہ لونڈی ام ایمن کو جو اسامہ بن زید کی والدہ تھیں دے دیئے ابن شہاب کا بیان ہے کہ مجھ سے بن مالک نے بیان کیا کہ جب نبی صلی ﷲ علیہ وسلم خیبر والوں کے قتل سے فارغ ہوئے اور مدینہ واپس ہوئے تو مہاجرین نے انصار کی دی گئی جائیدادیں انہیں واپس کردیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان کی مان کو ان کے کھجور کے درخت واپس کردیے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ام ایمن کو اس کے بدلے میں اپنے باغ کے کچھ درخت دے دیئے اور احمد بن شبیب نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد نے بواسطہ یونس اس حدیث کو روایت کیا اس میں (مکانھن من حائطہ) کے بجائے) مَکَانَهُنَّ مِنْ خَالِصِهِ کے الفاظ بیان کیے ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment