کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
قرض لینےاور قرض ادا کرنے اور تصرف سے روک دینے اور مفلس ہوجانے کا بیان
باب
غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اور اس کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف نہ کرے۔
حدیث نمبر
2242
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَالْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ قَالَ فَسَمِعْتُ هَؤُلَائِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحْسِبُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
ابو الیمان، شعیب، زہری، سالم بن عبدﷲ ، عبدﷲ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہو گی امام (خلیفہ) حاکم ہے اس سے اس کی رعیت کی بابت پوچھ ہو گی، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے، اس سے اسکی رعیت کے متعلق باز پرس ہو گی مرد اپنے گھر کا حاکم ہے اس سے اسکی رعیت کے متعلق باز پرس ہو گی، خادم اپنے مالک کے مال میں حکومت رکھتا ہے، اس سے اپنی رعیت کی باز پرس ہو گی، ابن عمر نے کہا کہ میں نے یہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے اور سمجھتا ہوں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ آدمی اپنے باپ کے مال میں صاحب اختیار ہے، اس سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا، غرض تم میں سے ہر شخص (ایک طرح کا حاکم ہے اور تم میں سے ہر شخص سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہو گی) -
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment