کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جھگڑوں کا بیان
باب
قرض دار کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے اور مسلمان اور یہودی میں جھگڑا ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر
2243
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَيْسَرَةَ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ آيَةً سَمِعْتُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَأَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کِلَاکُمَا مُحْسِنٌ قَالَ شُعْبَةُ أَظُنُّهُ قَالَ لَا تَخْتَلِفُوا فَإِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ اخْتَلَفُوا فَهَلَکُوا
ابو الولید، شعبہ، عبدالملک بن میسر ہ، نزال، عبدﷲ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو ایک آیت نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی تلاوت کے خلاف پڑھتے ہوئے سنا میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ نے فرمایا کہ تم دونوں اچھا پڑھتے ہو، شعبہ نے کہا، میں گمان کرتا ہوں آپ نے یہ فرمایا کہ اختلاف نہ کرو، اس لئے کہ تم سے پہلی امتوں نے اختلاف کیا تو ہلاک ہو گئیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment