کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وکالہ کا بیان
باب
جب کوئی شخص اپنے وکیل سے کہے کہ اس کو خرچ کرو، جہاں تم کو مناسب معلوم ہو۔
حدیث نمبر
2162
حَدَّثَناِ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ کَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَکْثَرَ الْأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالًا وَکَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَائَ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِيهَا طَيِّبٍ فَلَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی يَقُولُ فِي کِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَائَ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ فَقَالَ بَخٍ ذَلِکَ مَالٌ رَائِحٌ ذَلِکَ مَالٌ رَائِحٌ قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا وَأَرَی أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ قَالَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ عَنْ مَالِکٍ وَقَالَ رَوْحٌ عَنْ مَالِکٍ رَابِحٌ
یحیٰی بن یحیی، مالک، اسحاق بن عبدﷲ نے انس بن مالک کو کہتے ہوئے سنا کہ ابوطلحہ انصار مدنیہ میں سب سے زیادہ مالدار تھے اور بیر حاء سب سے زیادہ ان کو پیارا تھا، اسکا رخ مسجد کی طرف تھا، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس میں جاتے اور اس کا عمدہ پانی پیا کرتے تھے، جب یہ آیت اتری (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ ) یعنی تم نیکی کو کبھی نہ پاؤ گے، یہاں تک کہ تم اپنی محبوب ترین چیز میں سے خرچ کرو، ابوطلحہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ﷲ تعالی اپنی کتاب میں فرماتا ہے کہ تم نیکی نہ پاؤ گے جب تک تم اپنی محبوب ترین چیز خرچ نہ کرو، اور مجھ کو سب سے زیادہ پیارا بیر حاء ہے اور وہ ﷲ کے لئے خیرات کرتا ہوں میں اس کی نیکی اور اس کے ثواب کا ﷲ کے پاس امیدوار ہوں، یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اسے جہاں چاہیں خرچ کریں، آپ نے فرمایا خوب یہ مال تو چلا جانے والا ہے یہ مال تو چلا جانے والا ہے جو تم نے کہا وہ میں نے سن لیا اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تو اس کو رشتہ داروں میں تقسیم کر دے، ابوطلحہ نے کہا ایسا ہی کروں گا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم چناچہ ابوطلحہ نے اس کو اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھا ئیوں میں تقسیم کر دیا اسمعیل نے مالک سے اس کے متابع حدیث روایت کی اور روح نے مالک نے رائح کے بجائے رابح (فائدہ پہنچانے والا) کا لفظ بیان کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment