کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مکاتب کرنے کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جو اپنے دوستوں سے کوئی چیز مانگے۔
حدیث نمبر
2393
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ السَّلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ فِي طَرِيقِ مَکَّةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلٌ أَمَامَنَا وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ وَأَنَا غَيْرُ مُحْرِمٍ فَأَبْصَرُوا حِمَارًا وَحْشِيًّا وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي فَلَمْ يُؤْذِنُونِي بِهِ وَأَحَبُّوا لَوْ أَنِّي أَبْصَرْتُهُ وَالْتَفَتُّ فَأَبْصَرْتُهُ فَقُمْتُ إِلَی الْفَرَسِ فَأَسْرَجْتُهُ ثُمَّ رَکِبْتُ وَنَسِيتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ فَقُلْتُ لَهُمْ نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نُعِينُکَ عَلَيْهِ بِشَيْئٍ فَغَضِبْتُ فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا ثُمَّ رَکِبْتُ فَشَدَدْتُ عَلَی الْحِمَارِ فَعَقَرْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ وَقَدْ مَاتَ فَوَقَعُوا فِيهِ يَأْکُلُونَهُ ثُمَّ إِنَّهُمْ شَکُّوا فِي أَکْلِهِمْ إِيَّاهُ وَهُمْ حُرُمٌ فَرُحْنَا وَخَبَأْتُ الْعَضُدَ مَعِي فَأَدْرَکْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ مَعَکُمْ مِنْهُ شَيْئٌ فَقُلْتُ نَعَمْ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ فَأَکَلَهَا حَتَّی نَفِدَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَحَدَّثَنِي بِهِ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ
عبدالعزیز بن عبدﷲ محمد بن جعفر ابوحازم عبدﷲ بن ابی قتادہ سلمی اپنے والد ابوقتادہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں مکہ کے بعض راستوں میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے چند صحابہ کے ساتھ ایک دن بیٹھا ہوا تھا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ہمارے آگے ٹھہرے ہوئے تھے اور لوگ تو احرام باندھے ہوئے تھے لیکن میں حالت احرام میں نہیں تھا- لوگوں نے ایک گورخر دیکھا اور میں اپنی جوتیاں ٹانکنے میں مشغول تھا ان لوگوں نے مجھے اس کی اطلاع نہ دی لیکن وہ لوگ چاہتے تھے کہ کاش میں اس کو دیکھ لیتا میں نے نظر پھیر کردیکھا تو میری نظر اس پر پڑی میں گھوڑے کی طرف گیا اور اس پر زین کسا پھر میں سوار ہوگیا لیکن کوڑا اور نیزہ لینا بھول گیا میں نے لوگوں سے کہا کہ مجھے کوڑا اور نیزہ دے دو تو لوگوں نے کہا بخدا ہم تمہاری مدد کچھ بھی نہیں کریں گے میں ناراض ہوا اور گھوڑے سے اتر کر میں نے یہ دونوں چیزیں لیں پھر میں سوار ہوا اور گورخر پر حملہ کردیا اس کو ذبح کرکے لیے آیا تو وہ مر چکا تھا لوگوں نے اس کو کھانا شروع کیا پھر حالت احرام میں اس کے کھانے میں لوگوں کو شک ہوا ہم لوگ وہاں سے چلے اور اس کا ایک دست میں نے چھپا رکھا تھا جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہے؟ میں نے کہا جی ہاں! چناچہ میں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو وہ دست دے دیا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھایا یہاں تک کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ختم کردیا حالانکہ آپ احرام میں تھے محمد بن جعفر کا بیان ہے کہ مجھ سے یہ حدیث زید بن اسلم نے بواسطہ عطاء بن یسار ابوقتادہ بیان کی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment